آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحری جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹوں کے بعد عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ سامنے آیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجارتی راستے کھلوانے اور سیکیورٹی اتحاد میں شامل ہونے کی اپیل پر دنیا کے بڑے ممالک نے تاحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جبکہ جاپان نے واضح طور پر اس مشن کے لیے اپنا بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔
جاپان، جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے تیل پر شدید انحصار کرتا ہے، اس کے اس فیصلے کو ماہرین انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں: جاپان ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھنا چاہتا ہے۔ عسکری مداخلت سے انکار کا مقصد تہران کے ساتھ دیرینہ سفارتی تعلقات کو بچانا ہے۔
جاپانی آئین کے تحت ان کی دفاعی افواج کو بیرونی تنازعات میں براہِ راست شرکت سے روکتی ہے، جب تک کہ جاپان کی اپنی سلامتی کو براہِ راست خطرہ نہ ہو۔ ٹوکیو کا خیال ہے کہ عسکری طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے راستہ کھلوانا ان کی تیل کی سپلائی کے لیے زیادہ محفوظ عمل ہوگا۔
صدر ٹرمپ کی اپیل پر دیگر عالمی طاقتوں (جیسے یورپی ممالک اور چین) کی خاموشی درج ذیل وجوہات کی بنا پر ہو سکتی ہے: بیشتر ممالک ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست جنگ کا حصہ بننے سے کتراتے ہیں، کیونکہ اس سے عالمی معیشت کے ڈوبنے کا خطرہ ہے۔
کئی اتحادی ممالک کا خیال ہے کہ موجودہ بحران امریکہ کے ایران کے ساتھ سخت گیر رویے اور “آپریشن ایپک فیوری” کا نتیجہ ہے، اس لیے وہ اس کی قیمت چکانے کو تیار نہیں ہیں۔ چین، جو خلیج سے تیل کا بڑا خریدار ہے، اس معاملے کو عسکری رنگ دینے کے بجائے سفارتی سطح پر حل کرنے پر زور دے رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ترجمان پاسدارانِ انقلاب کا چیلنج: “امریکہ اپنے جہاز خلیج فارس میں لا کر دکھائے”

