وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کے ڈپٹی ترجمان کئ جانب سے جاری بیان پر سخت ردعمل جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغان طالبان حکومت کے ڈپٹی ترجمان کا بیان اپنی ہولناک کاروائیوں کی چھپانے کی مذموم سازش ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومتِ پاکستان نے باجوڑ واقعے اور اس کے بعد افغان حکام کی جانب سے کیے جانے والے دعوؤں کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت کے ڈپٹی ترجمان کا بیان اپنی ہولناک کارروائیوں کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے
وزارتِ اطلاعات نے واضح کیا کہ افغان طالبان حکومت نے جان بوجھ کر ضلع باجوڑ میں شہری آبادی کو مارٹر حملوں کا نشانہ بنایا۔
اس بزدلانہ کارروائی کے نتیجے میں 4 بے گناہ پاکستانی شہری شہید ہوئے، جبکہ ایک 5 سالہ معصوم بچہ شدید زخمی ہوا ہے۔ وزارتِ اطلاعات نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کی افغانستان میں کارروائیاں کسی عام شہری کے خلاف نہیں، بلکہ صرف اور صرف ان دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک محدود ہیں جو پاکستان کی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں۔
وزارتِ اطلاعات نے افغان حکومت کی جانب سے پھیلائی جانے والی من گھڑت خبروں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
افغان طالبان حکومت پراپیگنڈا کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز کا سہارا لے رہی ہے۔
پاکستان ایسی جعلی تصاویر پر انحصار نہیں کرتا۔ طالبان حکومت کے سرکاری چینلز سے پھیلایا جانے والا جھوٹ انہیں خود اندرونی اور عالمی سطح پر بے نقاب کر رہا ہے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق، سرحد پار سے ہونے والے حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور دشمن کے کسی بھی ڈیجیٹل یا عسکری پراپیگنڈا کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: باجوڑ: افغانستان سےمارٹر گولے حملے میں 4 سگے بھائی شہید، مقامی سکیورٹی کمانڈر کی متاثرہ خاندان سے ملاقات، لواحقین سے تعزیت