قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی اور سلیکشن کے طریقۂ کار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم میں اصل اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے اور محض چند کھلاڑیوں کو باہر بٹھا دینے کو سرجری قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی تبدیلی لانا مقصود ہے تو سب سے پہلے سلیکشن کمیٹی کے نظام میں اصلاحات کرنا ہوں گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک ویڈیو بیان میں شاہد آفریدی نے کہا کہ حالیہ ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی سب کے سامنے تھی اور شائقین کو اس سے کافی مایوسی ہوئی۔ ان کے مطابق اس بڑے ایونٹ کے بعد ٹیم میں بہتری لانے کے لیے جو فیصلے کیے گئے، وہ بھی زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بنگلہ دیش کے خلاف حالیہ سیریز میں بھی پاکستان کو 2-1 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس نے ٹیم کی حکمت عملی اور سلیکشن پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کو چاہیے تھا کہ وہ ان نتائج کے بعد اپنی پالیسیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیتی۔ ان کے مطابق ٹیم کے انتخاب میں واضح سمت نظر نہیں آتی اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کئی فیصلے جلد بازی میں کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی قومی ٹیم کی مضبوطی کا دارومدار درست سلیکشن پر ہوتا ہے، لیکن یہاں بنیادی منصوبہ بندی ہی کمزور دکھائی دیتی ہے۔
شاہد آفریدی نے مزید کہا کہ سلیکشن کمیٹی کو اس بات کا واضح اندازہ ہونا چاہیے کہ کس کھلاڑی کو کس فارمیٹ میں کپتانی دی جا سکتی ہے اور کس کو ٹیم کا مستقل حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق کپتان تبدیل کرنا یا چند کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کر دینا مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔
سابق کپتان کا کہنا تھا کہ سرجری کے نام پر کئی سینیئر کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر بٹھا دیا گیا، حالانکہ ان میں سے بعض کی ون ڈے کرکٹ میں کارکردگی کافی اچھی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجربہ کار کھلاڑیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا ٹیم کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ چند ایسے نوجوان کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں شامل کر لیا گیا جنہوں نے مشکل سے چند ڈومیسٹک یا فرسٹ کلاس میچز کھیلے تھے۔ ان کے مطابق جب ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار خود سوالات کی زد میں ہو تو ایسے کھلاڑیوں کو براہ راست بین الاقوامی سطح پر لانا ان کے لیے بھی دباؤ کا باعث بنتا ہے اور ٹیم کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کو مضبوط بنانے کے لیے بنیادی سطح پر اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق ڈومیسٹک کرکٹ کے معیار کو بہتر بنانا، واضح پالیسی بنانا اور سلیکشن کے عمل کو شفاف بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی بہتری لانا مقصود ہے تو اصل سرجری ٹیم میں نہیں بلکہ سلیکشن کمیٹی کے نظام میں ہونی چاہیے۔