آزاد کشمیر انتخابات سے قبل بڑی پیش رفت، پاکستان تحریک انصاف کے 2 دعویدار، رجسٹریشن کے لیے نئی درخواست دائر

آزاد کشمیر انتخابات سے قبل بڑی پیش رفت، پاکستان تحریک انصاف کے 2 دعویدار، رجسٹریشن کے لیے نئی درخواست دائر

آزاد جموں کشمیر کے آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ایک نئی سیاسی پیش رفت سامنے آ گئی ہے جہاں پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر چیپٹر کے 2 دعویدار سامنے آ گئے ہیں۔

پیر کو پاکستان تحریک انصاف  آزاد جموں کشمیر کو  پی ٹی آئی پاکستان کے نام سے رجسٹر کرنے کے لیے باضابطہ نئی درخواست جمع کرا دی گئی ہے۔ یہ درخواست الیکشن کمیشن آزاد جموں کشمیر کو جمع کرائی گئی ہے جس میں جماعت کو مقامی انتخابی قوانین کے تحت بطور سیاسی جماعت رجسٹر کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نومئی کیس،پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے صدر ،سا بق وزیر اعظم عبدالقیوم نیازی سماہنی سے گرفتار

درخواست کے مطابق گوجرا، مظفرآباد کے رہائشی شیراز خان ولد حاجی اکبر خان نے چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں کشمیر کو تحریری درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ جماعت کو آزاد جموں کشمیر الیکشن ایکٹ 2020 کے سیکشن 128 اور آزاد جموں کشمیر الیکشن رولز 2020 کے تحت بطور باقاعدہ سیاسی جماعت رجسٹر کیا جائے تاکہ وہ آئندہ انتخابات میں حصہ لے سکے۔

درخواست میں مزید بتایا گیا ہے کہ پارٹی کے بانی اکبر ایس بابر ہیں، جنہوں نے باقاعدہ تحریری اختیار نامہ جاری کرتے ہوئے شیراز خان کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ آزاد جموں کشمیر میں پی ٹی آئی پاکستان کی رجسٹریشن کے تمام مراحل مکمل کریں اور جماعت کی نمائندگی کرتے ہوئے انتخابی عمل میں حصہ لیں۔ اس سلسلے میں ایک اتھارٹی لیٹر بھی الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرایا گیا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق پارٹی اپنے نظریاتی مؤقف میں پاکستان کے نظریے اور ریاست جموں کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی مکمل حمایت کرتی ہے اور اسی بنیاد پر وہ آزاد جموں کشمیر کے آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہتی ہے۔

درخواست کے ساتھ جماعت کا آئین، مقاصد، تنظیمی ڈھانچہ، مرکزی و مقامی عہدیداران کی فہرست اور رکنیت کی تفصیلات بھی الیکشن کمیشن کو فراہم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ پارٹی کے مالیاتی معاملات اور فنڈنگ سے متعلق معلومات بھی جمع کرائی گئی ہیں تاکہ انتخابی قوانین کے مطابق مکمل شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔

الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق درخواست کے ساتھ دیگر ضروری دستاویزات بھی جمع کرائی گئی ہیں جن میں عہدیداران کے شناختی کارڈز کی نقول، حلف نامے، مالی تفصیلات اور یہ ثبوت شامل ہیں کہ پارٹی نے کسی بھی ممنوعہ ذرائع سے فنڈز حاصل نہیں کیے۔

درخواست میں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ فراہم کردہ تمام معلومات درست اور مستند ہیں اور پارٹی آزاد جموں کشمیر الیکشن ایکٹ 2020 اور متعلقہ قوانین کی مکمل پابندی کرے گی۔ اس میں مالی حسابات کی شفافیت، انتخابی اخراجات کی تفصیلات اور دیگر قانونی تقاضوں پر عمل شامل ہے۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی کی 5 اگست کی کال بھارتی بیانیے کی تائید، کشمیری عوام کے مؤقف سے غداری ہے، اختیار ولی خان

شیراز خان نے اپنی درخواست میں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ جماعت پی ٹی آئی پاکستان کو جلد از جلد بطور سیاسی جماعت رجسٹر کیا جائے اور آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے پارٹی کو انتخابی نشان بھی الاٹ کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کو کسی وضاحت یا مزید معلومات کی ضرورت ہو تو وہ ذاتی طور پر پیش ہو کر اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔

واضح رہے کہ آزاد جموں کشمیر میں کسی نئی جماعت یا نئے نام سے رجسٹریشن کی درخواست انتخابی منظرنامے پر اثر انداز ہو سکتی ہے، کیونکہ انتخابات سے قبل سیاسی صف بندی اور اتحادوں میں تبدیلیاں اکثر دیکھنے میں آتی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اس درخواست پر کیا فیصلہ کرتا ہے اور آیا پی ٹی آئی پاکستان کو باضابطہ طور پر رجسٹریشن ملتی ہے یا نہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *