وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات، نشریات اور امور خیبرپختونخواہ اختیار ولی خان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’پی ٹی آئی ‘ کی جانب سے 5 اگست کو سیاسی سرگرمیوں اور احتجاج کا اعلان بھارت کے بیانیے کو تقویت دینے اور کشمیریوں کے مؤقف سے غداری کے مترادف ہے۔
منگل کو پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی ) ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کا کہ ’5 اگست وہ سیاہ دن ہے جب 2019 میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی اور کشمیری عوام پر مظالم مزید بڑھا دیے گئے۔ اس دن کو سیاسی مقاصد کے لیے چننا کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے‘۔
اختیار ولی خان نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی جانب سے اس تاریخ کو سیاسی ایجنڈے کے لیے چننا بھارت اور اسرائیل کے پروپیگنڈے کو بڑھاوا دینے کی ایک شعوری کوشش ہے۔
’یہ کوئی تحریک نہیں بلکہ ریاست سے غداری کی ایک تکنیک ہے۔ جب پوری قوم کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کر رہی ہوتی ہے، پی ٹی آئی اور اس کے بانی بھارت کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں‘۔
’بھارت کی پراکسی جنگ اور بنی گالہ کی سیاست
اختیار ولی خان نے پی ٹی آئی کو پاکستان کے خلاف بھارتی ’پراکسی وار کا حصہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی سیاست صرف بنی گالہ تک محدود ہے اور اس میں عوامی خدمت کا کوئی وژن موجود نہیں ہے۔ ’افسوس کی بات ہے کہ عمران خان کے بیانات آج دہلی کے بیانیے سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں، نہ کہ اسلام آباد کے‘۔
خیبرپختونخواہ حکومت کی کارکردگی پر تنقید
انہوں نے پی ٹی آئی کی خیبرپختونخواہ حکومت پر بھی کڑی تنقید کی اور گیلپ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں کرپشن کی شرح ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ ’ کے پی میں نوکریاں بیچی جا رہی ہیں اور ترقیاتی فنڈز کرپشن کی نذر ہو رہے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ 13 سالہ دورِ حکومت میں خیبرپختونخوا میں نہ کوئی نیا اسپتال، نہ اسکول اور نہ ہی کوئی بنیادی صحت مرکز قائم ہوا‘۔ اگر واقعی نوجوانوں کے مراکز، کھیل کے میدان یا تعلیمی ادارے بنے ہیں، تو عوام کو وہ کیوں نظر نہیں آتے‘؟۔
وفاق اور پنجاب حکومت کی تعریف
وفاقی حکومت اور پنجاب کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور مریم نواز کی قیادت میں صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تیز رفتار ترقی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گیلپ سروے کے مطابق 85 فیصد خیبرپختونخوا کے عوام وفاق کے ساتھ چلنے کے حامی ہیں اور موجودہ صوبائی حکومت کو ناکام سمجھتے ہیں۔
عمران خان کی قید سے متعلق بیانیے پر طنز
عمران خان کی قید سے متعلق بیانیے پر طنزیہ انداز میں اختیار ولی خان نے کہا کہ ’”عمران خان تنہائی میں نہیں بلکہ آرام دہ ماحول میں ہیں۔ اگر ان کے لیے موسیقی کا پروگرام، سرکس یا علی امین گنڈا پور بھیج دیا جائے تو وہ خوش ہو جائیں گے‘۔
انہوں نے عمران خان کے دور حکومت میں ن لیگ کی قیادت پر ہونے والے مظالم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ ہماری قیادت کی بیرکوں میں سانپ اور بچھو چھوڑے گئے۔ خواتین رہنماؤں، حتیٰ کہ مریم نواز کو بھی جیل میں ڈالا گیا، مگر ہم نے ریاست کے خلاف کوئی بیانیہ نہیں اپنایا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وفاقی حکومت عمران خان سے کوئی انتقامی سلوک نہیں کر رہی اور قانون و آئین کے مطابق ہر شہری کے ساتھ یکساں سلوک کر رہی ہے۔
کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہوں یا دشمنوں کے ساتھ، فیصلہ قوم کو کرنا ہے
اختتام پر اختیار ولی خان نے قوم سے اپیل کی کہ ’ قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ 5 اگست کو کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا ان کے دشمنوں کے ساتھ؟ ریاست، حکومت اور وزیراعظم شہباز شریف کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور نریندر مودی یا اس کے حامیوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے‘۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب پی ٹی آئی 5 اگست کو سیاسی سرگرمیوں اور عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج کی تیاری کر رہی ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔