وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسکیم کا دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اب غیرملکی شہریوں، ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے بھی کھلے گا، غیرملکی کمپنیوں کو حکومتی سیکیورٹیز، نیا پاکستان سرٹیفکیٹ میں سرمایہ کاری کی اجازت ہوگی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی ہے، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ ایک نمایاں ڈیجیٹل بینکاری سہولت ہے جس کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانی گھر بیٹھے بینک اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں، حکومتی سیکیورٹیز اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں اور پاکستان میں جائیداد بھی خرید سکتے ہیں۔
وزیر خزانہ نے اس اقدام کی نمایاں کامیابیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً ساڑھے پانچ سال قبل شروع ہونے والا روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ پروگرام اہم سنگِ میل حاصل کر چکا ہے۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں اب تک 9 لاکھ سے زائد اکاؤنٹس کھل چکے ہیں، آر ڈی اے کے ذریعے پاکستان میں 12 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ آچکا ہے، مالی سال 2025 میں ترسیلات زر 38.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، رواں مالی سال ترسیلات زر 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ ذخائر تقریباً 16.3 ارب ڈالر ہیں، پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 31.6 ارب ڈالر کے قریب ہیں۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا آغاز اسٹیٹ بینک نے 10 ستمبر 2020 کو کیا تھا جس کا مقصد مالیاتی منڈیوں کے ساتھ پاکستان کا مضبوط رابطہ بڑھانا ہے۔