کیوبا میں زلزلے کے زور دار جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث مختلف علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری گھروں سے باہر نکل آئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے سے کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم حکام نے صورتحال پر قریبی نظر رکھی ہوئی ہے۔
امریکی محکمہ زلزلہ پیما کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر6 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کا مرکز زمین کی سطح سے تقریباً 11.6کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ ماہرین کے مطابق کم گہرائی کے باعث زلزلے کے جھٹکے زیادہ شدت سے محسوس کیے گئے۔
زلزلے کے جھٹکے دارالحکومت ہوانا سمیت مختلف شہروں میں محسوس کیے گئے، جہاں لوگ خوف کے عالم میں گھروں، دفاتر اور تجارتی مراکز سے باہر نکل آئے۔ کئی علاقوں میں عمارتوں کے ہلنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، تاہم کسی بڑے انہدام یا بنیادی ڈھانچے کو نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
مقامی حکام کے مطابق ریسکیو اور ایمرجنسی سروسز کو فوری طور پر الرٹ کر دیا گیا تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ شہریوں کو کھلے مقامات پر رہنے اور غیر ضروری طور پر عمارتوں میں داخل نہ ہونے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔
ماہرین ارضیات کے مطابق کیوبا اور اس کے اطراف کا کیریبین خطہ مختلف ٹیکٹونک پلیٹس کے سنگم پر واقع ہے، جس کی وجہ سے یہاں وقتاً فوقتاً زلزلے آتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘6’ شدت کا زلزلہ درمیانی درجے کا تصور کیا جاتا ہے، لیکن اگر اس کی گہرائی کم ہو تو اس کے اثرات زیادہ محسوس ہو سکتے ہیں۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے ملنے والی معلومات پر اعتماد کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ آفٹر شاکس یعنی بعد کے جھٹکوں کا امکان موجود ہوتا ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔
حالیہ زلزلہ اگرچہ زیادہ تباہ کن ثابت نہیں ہوا، تاہم یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قدرتی آفات کسی بھی وقت پیش آ سکتی ہیں، اور اس کے لیے پیشگی تیاری اور مؤثر ایمرجنسی نظام انتہائی ضروری ہے۔