ایران میں تعینات پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے کہا ہے کہ خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بلا تعطل جاری ہیں، جبکہ دونوں ممالک باہمی تعاون کے ذریعے تجارت کو مزید مستحکم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اپنے ایک بیان میں مدثر ٹیپو نے حکومتِ ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے مشکل حالات کے باوجود پاکستان کے ساتھ تجارت اور ٹرانزٹ تجارت کے لیے مکمل سہولت فراہم کی ہے، جو دونوں ممالک کے مضبوط برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ذریعے ٹرانزٹ تجارت کے نظام کو بھی فعال رکھا گیا ہے، جس کے باعث پاکستانی برآمدات اور درآمدات کا سلسلہ متاثر نہیں ہوا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان زمینی سرحدیں معمول کے مطابق کھلی ہیں اور تجارتی سرگرمیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔
سفیر پاکستان کا کہنا تھا کہ سرحدی گزرگاہوں پر ‘گرین چینلز’ کو فعال کیا گیا ہے، جس سے اشیاء کی ترسیل کا عمل تیز اور مؤثر ہوا ہے۔ ان چینلز کے ذریعے تجارتی گاڑیوں کو ترجیحی بنیادوں پر کلیئر کیا جا رہا ہے، جس سے وقت اور لاگت دونوں میں کمی آئی ہے۔
مدثر ٹیپو نے مزید کہا کہ پاکستان بھی ایران کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہے تاکہ موجودہ حالات کے باوجود دوطرفہ تجارت متاثر نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے حکام تجارتی رش اور سرحدی مسائل کو حل کرنے کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی سفارتخانہ تہران میں موجود سرکاری اور نجی شعبے کے نمائندوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھے ہوئے ہے، جبکہ پاکستان میں بھی متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل مشاورت جاری ہے تاکہ کسی بھی رکاوٹ کو فوری طور پر دور کیا جا سکے۔
واضع رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت خاص طور پر توانائی، خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کے شعبوں میں اہمیت رکھتی ہے اور موجودہ حالات میں اس تسلسل کو برقرار رکھنا دونوں معیشتوں کے لیے نہایت ضروری ہے۔
یاد رہے کہ’گرین چینلز‘ جیسے اقدامات نہ صرف تجارتی رفتار کو بڑھاتے ہیں بلکہ سرحدی انتظامات کو بھی بہتر بناتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ خطے میں معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔