صدر مملکت نے یومِ پاکستان 23 مارچ 2026 کے موقع پر منعقد ہونے والی روایتی فوجی پریڈ اور تمام سرکاری تقریبات منسوخ کرنے کی سمری کی منظوری دے دی ہے۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ ملک کو درپیش معاشی دباؤ، خلیجی خطے میں جاری تیل بحران اور حکومت کی جانب سے اعلان کردہ کفایت شعاری پالیسی کے پیش نظر وزیر اعظم کی ایڈوائس پر کیا گیا۔
ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے اس فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی وسائل کا محتاط اور ذمہ دارانہ استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قوم کو مشکل حالات میں سادگی، اتحاد اور قربانی کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ ملک کو معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خلیجی تیل بحران کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت کئی درآمدی معیشتوں پر پڑ رہے ہیں۔ حکومت کو بڑھتے ہوئے مالی دباؤ، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور مہنگائی کے خدشات کے پیش نظر غیر ضروری اخراجات کم کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔
یومِ پاکستان کی پریڈ، جو ہر سال اسلام آباد میں شایانِ شان انداز میں منعقد کی جاتی ہے، اس بار نہیں ہوگی۔ اس پریڈ میں مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ، جدید دفاعی سازوسامان کی نمائش اور فضائیہ کے شاندار فلائی پاسٹ شامل ہوتے تھے، جسے عوام اور غیر ملکی مہمانوں کی بڑی تعداد دیکھتی تھی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے کروڑوں روپے کے اخراجات کی بچت متوقع ہے، جو موجودہ معاشی حالات میں اہم سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم یومِ پاکستان کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک بھر میں محدود اور سادہ تقریبات منعقد کی جائیں گی، جن میں قومی یکجہتی اور تجدید عہد پر زور دیا جائے گا۔
دوسری جانب، ہر سال 23 مارچ کو ہونے والی اعزازات کی تقریب بھی ملتوی کر دی گئی ہے، جو اب 28 اپریل 2026 کو منعقد ہوگی۔ اس تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو قومی اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے کفایت شعاری مہم کو سنجیدگی سے نافذ کرنے کی علامت ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ پیغام بھی دیا جا رہا ہے کہ ریاستی ترجیحات اب معاشی استحکام اور عوامی فلاح پر مرکوز ہیں۔