پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پیشکش کردی

پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پیشکش کردی

پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی باضابطہ پیشکش کر دی ہے، جسے خطے میں امن کے قیام کی ایک اہم سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس پیشکش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کشیدگی میں اضافہ ،امریکی جنگی جہازوں کی موجودگی میں ایران کا بڑا دفاعی اقدام

انہوں نے ایران پر ہونے والے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور کسی بھی قسم کی جارحیت کو خطے کے امن کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن اور معیشت کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان ماضی میں بھی مختلف علاقائی اور عالمی تنازعات میں ثالثی کا مثبت کردار ادا کر چکا ہے اور ہم ایک بار پھر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں’۔ انہوں نے زور دیا کہ بات چیت اور سفارت کاری ہی مسائل کا دیرپا حل ہیں۔

سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان کی یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، جس کے اثرات عالمی تیل منڈی، تجارت اور سیکیورٹی پر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان، جو خود خطے میں ایک اہم ملک ہے، اس صورتحال میں ایک متوازن اور قابلِ قبول ثالث کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔

دوسری جانب، وفاقی وزیر اطلاعات نے افغانستان سے متعلق الزامات کو بھی سختی سے مسترد کیا۔ انہوں نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستان پر اسپتال پر بمباری کے الزامات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج نے کبھی بھی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا۔

مزید پڑھیں:امریکی صدر نے چین کا اہم ترین دورہ اچانک ملتوی کر دیا، کیا یہ صرف تاخیر ہے یا بڑی تبدیلی کا آغاز؟

ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کی کارروائیاں صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کی تربیتی کیمپوں تک محدود رہتی ہیں، اور ان کارروائیوں کا مقصد صرف ملک کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان ماضی میں بھی اس قسم کے الزامات لگا کر حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

حکومتی حلقوں کے مطابق پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر نہ صرف اپنی سرحدوں کا دفاع کر رہا ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی عملی اقدامات اٹھا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کی ثالثی کی پیشکش کو قبول کر لیا جاتا ہے تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *