ایران کی بڑی کامیابی ، امریکا کا پہلی بار بحری بیڑے جیرالڈ فورڈ کو شدید نقصان پہنچنے کا اعتراف

ایران کی بڑی کامیابی ، امریکا کا پہلی بار بحری بیڑے جیرالڈ فورڈ کو شدید نقصان پہنچنے کا اعتراف

امریکی بحریہ کے جدید ترین طیارہ بردار جہاز جیرالڈ فورڈ کو پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کے بعد شدید نقصان پہنچنے کی تصدیق کر دی گئی ہے، جس کے بعد اسے عارضی طور پر آپریشنل ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق جہاز میں لگنے والی آگ کے باعث اندرونی حصوں کو نمایاں نقصان پہنچا، جس کے بعد اسے مرمت کے لیے یونان منتقل کیا جا رہا ہے۔ واقعے میں دو امریکی فوجی زخمی بھی ہوئے، تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

امریکی بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 12 مارچ کو جہاز کے لانڈری ایریا میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس نے تیزی سے جہاز کے دیگر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ پر قابو پانے کے لیے عملے کو تقریباً 30 گھنٹے کی طویل جدوجہد کرنا پڑی، جس کے بعد صورتحال کو مکمل طور پر کنٹرول کیا جا سکا۔

رپورٹس کے مطابق آتشزدگی کے نتیجے میں جہاز پر موجود تقریباً 600 ملاحوں کے رہائشی حصے متاثر ہوئے اور ان کے بستر جل گئے، جس کے باعث عملہ گزشتہ ایک ہفتے سے عارضی طور پر فرش پر سونے پر مجبور ہے۔ جہاز کو یونان کی بندرگاہ پر لے جا کر اس کی مکمل مرمت کی جائے گی، جس میں خاصا وقت لگنے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت، افغانستان اور اسرائیل کا پاکستان مخالف خفیہ منصوبہ بے نقاب ،سابق بھارتی کرنل کے ہوشربا انکشافات

The New York Times کے مطابق اس واقعے کے بعد امریکی بحریہ نے متبادل حکمت عملی کے طور پر ایک اور طیارہ بردار جہاز USS George H. W. Bush کو جلد مشرق وسطیٰ میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ خطے میں بحری موجودگی برقرار رکھی جا سکے۔

واضح رہے کہ اسلامی انقلابی گارڈ کور نے اس واقعے کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ اس نے USS Gerald R. Ford کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا، تاہم امریکی حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاز کو پیش آنے والا نقصان صرف آتشزدگی کے باعث ہوا، کسی بیرونی حملے کے شواہد نہیں ملے۔

جیرالڈ فورڈ دنیا کے جدید ترین اور بڑے طیارہ بردار بحری جہازوں میں شمار ہوتا ہے، اور اس کا عارضی طور پر میدانِ عمل سے ہٹایا جانا خطے میں امریکی بحری حکمت عملی پر اثرانداز ہو سکتا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ متبادل اقدامات کے ذریعے اس خلا کو جلد پر کیا جائے گا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *