مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی فوج کو ایک نئے داخلی بحران کا سامنا ہے جہاں متعدد اہلکاروں نے مناسب حفاظتی سہولیات نہ ہونے پر ڈیوٹی انجام دینے سے انکار کر دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق رضاکار اور ریزرو اہلکاروں نے راکٹ اور میزائل حملوں کے خطرے کے پیش نظر بنکرز کی کمی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے علاقوں میں تعینات کیا جا رہا ہے جہاں فوری پناہ لینے کے لیے محفوظ بنکرز موجود نہیں ہیں۔
رپورٹس کے مطابق فوجی حکام کی جانب سے لاجسٹک مسائل کو جواز بنا کر بنکرز کی فراہمی کو بار بار مؤخر کیا جا رہا ہے، جس سے اہلکاروں میں بے چینی اور غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک اسرائیلی فوجی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب سائرن بجتا ہے تو ہمارے پاس پناہ لینے کے لیے کوئی مناسب جگہ نہیں ہوتی، ہم صرف ہیلمٹ پہن کر زمین پر لیٹ جاتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ میزائل ہم پر نہ گرے۔ اس بیان نے سیکیورٹی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایک اور اہلکار نے کہا کہ اگر کوئی زخمی ہو جائے یا جان سے چلا جائے تو کیا صرف افسوس کا اظہار کافی ہوگا؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا فوج اپنے ہی سپاہیوں کی بنیادی حفاظت کو یقینی بنانے میں ناکام ہو رہی ہے؟
اہلکاروں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جو فوج 2000 کلومیٹر دور اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، کیا وہ اپنے فرنٹ لائن سپاہیوں کے لیے ایک محفوظ بنکر بھی فراہم نہیں کر سکتی؟
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال اسرائیلی فوج کے اندر بڑھتے ہوئے دباؤ، تھکن اور لاجسٹک چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو متعدد محاذوں پر سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کچھ یونٹس میں 30 فیصد تک اہلکاروں نے عارضی طور پر رپورٹنگ سے انکار کیا یا تاخیر کی، جس کے باعث آپریشنل تیاری پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ تاہم فوجی حکام نے ان دعوؤں کی مکمل تصدیق یا تردید نہیں کی۔
ادھر اسرائیل کی وزارت دفاع نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ تمام اہلکاروں کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور بنکرز سمیت حفاظتی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ تاہم زمینی حقائق اس بیان سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ مسئلہ جلد حل نہ کیا گیا تو نہ صرف فوج کا مورال متاثر ہوگا بلکہ جاری آپریشنز پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔