وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کے نام نہاد وزارتِ دفاع کے ترجمان کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے عیدالفطر کے موقع پر مغربی سرحد پر کیے گئے عارضی جنگ بندی کے مکمل احترام کا مظاہرہ کیا اور اس کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی نہیں کی۔ وزارت کے مطابق اس حوالے سے کیے گئے تمام دعوے لغو، بے بنیاد اور سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس نوعیت کا پروپیگنڈا ممکنہ طور پر افغان طالبان حکومت کے اندر موجود بعض عناصر کی جانب سے پھیلایا جا رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو ہوا دینا اور دہشت گردی کے لیے جھوٹا جواز پیدا کرنا ہو سکتا ہے۔
وزارتِ اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر افغان طالبان حکومت یا اس کے حمایت یافتہ عناصر کی جانب سے کسی بھی قسم کی دہشت گردی، سرحد پار حملہ یا ڈرون کارروائی کی گئی تو عارضی جنگ بندی فوری طور پر ختم کر دی جائے گی۔
حکام کے مطابق ایسی کسی بھی صورتحال میں آپریشن “غضب للحق” کو مزید شدت کے ساتھ دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر جھوٹے بیانیے کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔
حکام نے مزید کہا کہ ایسی کسی بھی صورتحال میں آپریشن غضب للحق کو مزید شدت کے ساتھ دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
وزارتِ اطلاعات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر قسم کے جھوٹے بیانیے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔