بھارتی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملنے کا دعویٰ جھوٹا نکلا، مودی حکومت پھر رسوا

بھارتی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملنے کا دعویٰ جھوٹا نکلا، مودی حکومت پھر رسوا

ایران کی جانب سے بھارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجات ملنے کا بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا، مودی سرکار ایک بار پھر عالمی سطح پر رسوا ہو گئی، مودی سرکار کے جھوٹے دعوؤں کی حقیقت سامنے آنے کے بعد سیاسی و عوامی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

 بھارتی میڈیا کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ ایران نے بھارت کو آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے، تاہم بعد ازاں ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دے دیا گیا۔

بھارتی جریدے اسکرول ان کی رپورٹ کے مطابق یہ خبر دراصل عوامی غصے کو کم کرنے کی ایک کوشش تھی، کیونکہ ملک میں بڑھتے ہوئے توانائی بحران نے حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت نے صورتحال کو قابو میں دکھانے کے لیے اپنے حامی میڈیا کا سہارا لیا۔

یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا آسان نہیں،ایران سے معاہدے کی ضرورت ہے،برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر

دوسری جانب بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ بھارتی جہازوں کے لیے کسی قسم کا جامع یا خصوصی بندوبست موجود نہیں۔ ان کے بیان کے بعد میڈیا میں گردش کرنے والی اطلاعات کی ساکھ پر مزید سوالات اٹھ گئے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ عالمی دباؤ کے باعث بھارت نے ایرانی تیل کی خریداری میں نمایاں کمی کی اور چاہ بہار بندرگاہ میں اپنی شراکت داری کو بھی محدود کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایرانی ٹینکرز کے حوالے سے سخت پالیسی اختیار کرنے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی، جس کے اثرات اب توانائی کے شعبے میں بھی دیکھے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز جیسے حساس عالمی راستے پر کسی بھی قسم کی کشیدگی کا براہِ راست اثر توانائی کی عالمی سپلائی پر پڑتا ہے، اور بھارت جیسے بڑے درآمدی ملک کے لیے یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے اندر ایندھن کی قیمتوں اور دستیابی کے حوالے سے عوامی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

نریندر مودی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود بھارت توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ پالیسیوں نے ملک کو بیرونی انحصار سے نجات دلانے کے بجائے مزید مشکلات سے دوچار کیا ہے۔

خارجہ امور سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں توازن کی کمی بھی اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ایران کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری اور دیگر عالمی اتحادوں میں شمولیت نے بھارت کی پوزیشن کو کمزور کیا ہے، جس کے باعث وہ حساس معاملات میں مطلوبہ اثر و رسوخ حاصل نہیں کر پا رہا۔

مزید برآں، توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے مسائل نے عوامی سطح پر بھی بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران معیشت کے دیگر شعبوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ کی کشید ہ صورتحال ،آبنائے ہرمز سے ایک ہزار بحری جہاز گزرنے کے منتظر

مجموعی طور پر بھارتی میڈیا کے دعوؤں اور حکومتی بیانات کے درمیان تضاد نے نہ صرف عوامی اعتماد کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی سوالات کو جنم دیا ہے۔ موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ حقائق کو شفاف انداز میں سامنے لایا جائے اور توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *