بھارت کے ساتھ 10مئی جنگ پاکستان جیتا، 6 طیارے بھی گرائے، مزید بھی گرا سکتا تھا، بھارتی سابق فوجی افسر کا بڑا اعتراف

بھارت کے ساتھ 10مئی جنگ پاکستان جیتا، 6 طیارے بھی گرائے، مزید بھی گرا سکتا تھا، بھارتی سابق فوجی افسر کا بڑا اعتراف

بھارت کے ایک سابق فوجی افسر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں ہونے والی مختصر مگر خطرناک جنگ  اور سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مذکورہ افسر نے کئی اہم دعوے کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اس معرکے میں پاکستان کو برتری حاصل رہی اور اس نے طیارے مار گرائے۔

ایک پوڈکاسٹ میں سابق بھارتی افسر نے اعتراف کیا کہ ‘یہ حقیقت ہے کہ پاکستان نے ہمارے 6 طیارے گرائے‘ جن میں سے 2 کا ملبہ میں خود دیکھ کر آیا ہوں، جبکہ پاکستان کے پاس مزید طیارے گرانے کی صلاحیت بھی موجود تھی، اور اس نے ہمارے مزید طیارے لاک بھی کر لیے تھے، تاہم کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے پاکستان نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر پاکستان چاہتا تو نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ایئر چیف ظہیر بابر سدھو نے پاکستان ایئر فورس کو جدید اور پروفیشنل فورس میں ڈھال دیا،بھارتی تجزیہ کار پروین ساہنی کا اعتراف

انہوں نے اس فضائی تصادم کو دنیا کی سب سے بڑی ‘ایئر ڈاگ فائٹ’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بھارت کے 84 جبکہ پاکستان کے 42 طیارے شریک تھے۔ ان کے بقول یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس معرکہ تھا، جس میں سٹیلائٹ نگرانی اور جدید دفاعی نظام بھی استعمال کیے گئے۔

سابق افسر نے مزید کہا کہ اس صورتحال میں بھارت کو عالمی سطح پر وہ حمایت حاصل نہ ہو سکی جس کی توقع تھی، جبکہ پاکستان کو چین، ترکیہ اور آذربائیجان جیسے ممالک کی بھرپور حمایت حاصل رہی، بھارت یہاں مکمل تنہائی کا شکار تھا۔ ان کے مطابق ’ہم اس لڑائی میں خود کو تنہا محسوس کر رہے تھے جبکہ پاکستان اپنے اتحادیوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا تھا‘۔

انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ بھارت کو اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان مسلسل اپنے دوستوں میں اضافہ کر رہا ہے جبکہ ہمارے تعلقات کمزور ہو رہے ہیں، ہمیں ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنا ہوگا‘۔

مزید گفتگو میں انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی جانب سے بھارتی فضائیہ کو مالی لحاظ سے بھی بڑا نقصان پہنچایا گیا، کیونکہ گرائے جانے والے طیاروں کی مالیت اربوں میں تھی۔ اس کے برعکس ان کے بقول بھارت کی کارروائیاں زیادہ تر محدود نوعیت کی رہیں، جن میں زمینی اہداف کو معمولی نقصان پہنچایا گیا اور محض کھڈے بنائے گئے، کھڈے تو فوری بھر جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں:بھارتی تجزیہ کار پروین ساہنی نےمودی دور کو بدترین قرار دے دیا

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے صرف ایسے اہداف کو نشانہ بنایا جو فوری بحال ہو سکتے ہیں، جبکہ پاکستان نے براہِ راست ہماری فضائی صلاحیت کو متاثر کیا‘۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر بھی اس صورتحال کا تاثر یہی گیا کہ پاکستان کو اس معرکے میں برتری حاصل رہی ہے جس کا ذکر امریکی صدر ٹرمپ بھی بار بار کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی افسر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی سیکیورٹی صورتحال حساس سمجھی جا رہی ہے۔ اس نوعیت کے بیانات نہ صرف ماضی کے واقعات پر نئی روشنی ڈالتے ہیں بلکہ مستقبل کی حکمت عملیوں کے لیے بھی اہم اشارے فراہم کرتے ہیں۔

Related Articles