فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور آیت اللہ خامنہ ای کے درمیان آخری ملاقات کی اندرونی کہانی منظر عام پر

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور آیت اللہ خامنہ ای  کے درمیان آخری ملاقات کی اندرونی کہانی منظر عام پر

ایک مخصوص سیاسی ٹولے کی جانب سے ایک بار پھر مذہب کو استعمال کر کے فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کو نشانہ بنانے کی کوشش بے نقاب ہو گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے والوں کے لیے سچ پہ مبنی کچھ حقائق درج ذیل ہیں،

فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر اور آیت اللہ خامنہ ای کی اخری ملاقات میں باہمی احترام اور یکجہتی کا واضح اظہار سامنے آیا – آیت اللہ خامنہ ای نے فیلڈ مارشل سے کہا تھا کہ”میں بھی علیؑ کا بیٹا ہوں اور آپ بھی علیؑ کے بیٹے اور یہ قدر ہماری باہمی قربت، احترام اور مسلم وحدت کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے”.

دونوں کی اس اخری ملاقات میں آیت اللہ خامنہ ای نے فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر سے یہ بھی کہا تھا کہ “مسلم امہ کو اپ پہ فخر ہے, جس طرح اپ نے معرکہ حق (آپریشن بنیان مرصوص) میں جرات اور بہادری سے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کا نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ اس کو شکست بھی دی”-

سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا بیانیہ حقائق کے برعکس ہے, یہ ایک منظم کوشش لگتی ہے جس میں اصل گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا – مقصد صرف عوام کو گمراہ کرنا ہے، نہ کہ حقیقت بتانا.

فیلڈ مارشل اور اہلِ تشیع علماء کی ملاقات کو جان بوجھ کر متنازع بنایا گیا – حالانکہ یہ نشست مکمل طور پر قومی ہم آہنگی کے لیے تھی مگر اسے سیاسی رنگ دے کر غلط تاثر پیدا کیا گیا.

اس نشست میں شریک افراد نے خود اس پروپیگنڈا کو مسترد کیا – انہوں نے واضح کیا کہ جو بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے وہ حقیقت نہیں بلکہ اصل پیغام کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے.

فیلڈ مارشل کا مرکزی پیغام اتحاد اور مذہبی رواداری تھا – انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں تمام مکاتب فکر کا احترام ضروری ہے اور اختلاف کو انتشار میں بدلنا خطرناک ہے.

گفتگو میں واضح کیا گیا کہ کوئی بھی آئین اور قانون سے بالاتر نہیں، یہ ایک اصولی اور ریاستی موقف ہے جو ہر شہری پر لاگو ہوتا ہے اس میں کسی مخصوص گروہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا.

یہ بھی پڑھیں: ملکی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی، اہلِ تشیع علمائے کرام اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ جاری

وطن کو اولین ترجیح دینے پر زور دیا گیا یہ پیغام دیا گیا کہ ریاست کے بغیر نہ شناخت ہوتی ہے نہ بقا, اس لیے قومی مفاد کو ہر چیز پر فوقیت دینا ضروری ہے-

 آرٹیکل 5 کا حوالہ دے کر ریاست سے وفاداری کی اہمیت بتائی گئی یہ آئینی ذمہ داری ہر پاکستانی پر عائد ہوتی ہے، اور اس کا مقصد قومی یکجہتی کو مضبوط کرنا ہے-

 شہید آیت اللہ خامنہ ای کے لیے گہری عقیدت اور تعزیت کا اظہار کیا گیا, یہ بیان مسلم دنیا کے ساتھ یکجہتی اور احترام کا اظہار تھا جسے غلط انداز میں پیش کر کے تنازع بنانے کی کوشش کی گئی-

 مسلم امہ کے اتحاد اور بیرونی سازشوں کے خطرے پر بات کی گئی بتایا گیا کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور ہمیں اس کھیل کا حصہ بننے سے بچنا ہوگا-

 چند سیاسی مفادات کے لیے جھوٹا بیانیہ پھیلانا افسوسناک ہے, یہ رویہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ قومی نقصان کا باعث بھی ہے ایسے پروپیگنڈا کو مکمل طور پر مسترد کرنا ضروری ہے-

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *