ملکی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی، اہلِ تشیع علمائے کرام اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ جاری
Home - آزاد سیاست - ملکی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی، اہلِ تشیع علمائے کرام اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ جاری
ملک میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور قومی یکجہتی کے تناظر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے فقہ جعفریہ کے جید علما و مشائخ نے اہم ملاقات کی، جس میں قومی استحکام، داخلی امن اور بیرونی خطرات کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے اختتام پر جاری اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کی سالمیت، دفاع اور قومی یکجہتی کے لیے تمام مذہبی طبقات اور ریاستی ادارے ایک صفحے پر کھڑے ہیں۔ علما نے اس موقع پر مذہب کے نام پر ہونے والے ہر قسم کے تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
علما و مشائخ نے دفاع وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے پاک افواج کے کردار کو سراہا۔
اس موقع پر وحدت علمائے اسلام کے چیئرمین مولانا زاہد عباس کاظمی نے کہا کہ ہم اپنی پوری قوت کے ساتھ پاکستان آرمی کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف افواج پاکستان کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے اور کسی بھی ریاست مخالف سرگرمی کی نہ صرف مخالفت کی جائے گی بلکہ اس کے خلاف عملی کردار بھی ادا کیا جائے گا۔ گلگت بلتستان میں فوجی املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کا مذہب یا قوم سے کوئی تعلق نہیں۔
معروف عالم دین علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا کہ پاکستان کے لیے قربانیاں دینا ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور ہم ہر داخلی و خارجی سازش کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہیں گے۔
اسی طرح مولانا الطاف حسین نے افغانستان کی جانب سے مبینہ جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے بھرپور اور مؤثر جواب دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کے ادارے نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر گاؤں سے 20 افراد افواج پاکستان کے شانہ بشانہ دفاع وطن کے لیے تیار کیے جائیں گے۔
علامہ عارف واحدی نے کہا کہ پاکستان عالم اسلام کے لیے ایک عظیم نعمت ہے اور اس کی حفاظت ہر شہری کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بھارت کے خلاف حالیہ معرکوں میں پاک افواج کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔
علامہ مرزا علی نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ وہ کسی بھی ریاست مخالف سرگرمی کا حصہ نہ بنیں اور ملک کے استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔
اس موقع پر علامہ ناظر عباس تقوی نے کہا کہ ملک میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے بیرونی عناصر اور فتنہ الخوارج جیسے گروہ ملوث ہیں، جن کا مقابلہ اتحاد اور یکجہتی سے ہی ممکن ہے۔
علامہ توقیر عباس اور علامہ محمد حسین نجفی نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی سالمیت اور دفاع کے لیے ہر ممکن قربانی دی جائے گی۔
مولانا بشارت امامی نے شہداء اور ان کے لواحقین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
ملاقات کے اختتام پر علمائے کرام نے شہداء کے درجات کی بلندی، ملکی سلامتی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا کی، جبکہ اس بات پر زور دیا گیا کہ مذہبی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس ملاقات نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان میں مذہبی قیادت اور سیکیورٹی ادارے ملک دشمن عناصر کے خلاف متحد ہیں اور کسی بھی قسم کی اندرونی یا بیرونی سازش کو ناکام بنانے کے لیے تیار ہی