امریکا کا بڑا فیصلہ، ایران کے تیل پر سے 30 دن کے لیے پابندیاں اٹھالیں

امریکا کا بڑا فیصلہ، ایران کے تیل پر سے 30 دن کے لیے پابندیاں اٹھالیں

امریکا نے ایران کے خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد پابندیوں میں 30 دن کے لیے عارضی نرمی دینے کا اعلان کر دیا ہے، جسے عالمی توانائی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی بے یقینی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کے سکریٹری اسکاٹ بیسینٹ کے مطابق یہ رعایت صرف اُن تیل کی کھیپوں پر لاگو ہوگی جو پہلے ہی ترسیل کے مرحلے میں ہیں، جبکہ نئے معاہدوں یا آرڈرز کو اس سہولت میں شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا مقصد عالمی منڈی میں اچانک پیدا ہونے والے دباؤ کو کم کرنا اور سپلائی چین کو وقتی طور پر مستحکم رکھنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کی تیل و گیس تنصیبات پر حملوں کا پیشگی کوئی علم نہیں تھا، اسرائیل نے ایسا غصے میں کیا، ڈونلڈ ٹرمپ

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری کشیدگی اور کارروائیوں نے عالمی سطح پر تیل کی رسد اور قیمتوں کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے بین الاقوامی مارکیٹ میں عدم استحکام کو بڑھا دیا ہے، جس کے اثرات توانائی کے شعبے سے لے کر عمومی معیشت تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے بعض ایسے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے جنہیں وہ امریکا اور اسرائیل سے منسلک قرار دیتا ہے۔ ان حملوں کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی، جو دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل گزرتا ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چین کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال طویل ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت، تجارتی سرگرمیوں اور توانائی کے شعبے پر گہرے اور دور رس ہو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں امریکا کا یہ عارضی فیصلہ ایک ہنگامی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاکہ مارکیٹ کو وقتی سہارا دیا جا سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *