امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ایران کی گیس اور آئل تنصیبات پر اسرائیل کے حالیہ حملے کے بارے میں امریکا کو پیشگی کوئی علم نہیں تھا۔ اسرائیل نے ’غصے میں‘ ایک محدود نوعیت کا حملہ کیا جس میں ایران کے نسبتاً چھوٹے حصے کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے جوابی حملوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے قطر کی راس لفان گیس تنصیبات پر حملے کو ’بلا جواز اور غیر منصفانہ‘ قرار دیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر ایران نے دوبارہ قطر کو نشانہ بنایا تو خطے میں کشیدگی بے قابو ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر نے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس پر مزید حملے نہیں کرے گا، تاہم اگر ایران نے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو امریکا خود اس گیس فیلڈ کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ امریکی کارروائی ایسی طاقت کی حامل ہوگی جو ایران نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی، تاہم امریکا خطے میں مکمل تباہی نہیں چاہتا کیونکہ اس کے طویل مدتی اثرات نہ صرف ایران بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑیں گے۔
واضح رہے کہ اگر یہ کشیدگی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو تیل کی عالمی قیمتوں میں 20 فیصد سے 30 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ خلیجی ممالک کی برآمدات بھی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ادھر عالمی برادری نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ میں ہنگامی اجلاس بلانے کی تیاریاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال کسی بڑے علاقائی تصادم کی پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے۔