ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر اہم بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اپنے فوجی اہداف کے حصول کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ایران کے خلاف امریکی حکمت عملی اور ممکنہ آئندہ اقدامات کی تفصیلات بیان کیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق امریکی پالیسی کا بنیادی مقصد ایران کی میزائل صلاحیت کو مکمل طور پر کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکمت عملی میں میزائل سسٹمز، لانچرز، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک اور اس سے متعلقہ دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانا شامل ہے تاکہ ایران کی اسٹریٹجک صلاحیت کو محدود کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی تیل و گیس تنصیبات پر حملوں کا پیشگی کوئی علم نہیں تھا، اسرائیل نے ایسا غصے میں کیا، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنا رہا ہے، جس کے تحت اسلحہ سازی کے مراکز، تحقیقاتی ادارے اور سپلائی نیٹ ورکس کو کمزور کرنا شامل ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایران کی طویل المدتی عسکری طاقت کو کم کرنا ہے تاکہ وہ خطے میں کسی بڑے خطرے کا باعث نہ بن سکے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکی حکمت عملی صرف زمینی یا میزائل نظام تک محدود نہیں بلکہ اس میں ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو بھی غیر مؤثر بنانا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے فضائی دفاعی نظام، جنگی طیاروں اور بحری اثاثوں کو نشانہ بنا کر اس کی مجموعی دفاعی صلاحیت کو محدود کیا جا رہا ہے۔
جوہری پروگرام کے حوالے سے انہوں نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے قریب بھی نہیں آنے دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسی کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو امریکا فوری، فیصلہ کن اور بھرپور ردعمل دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کے تحفظ کو بھی اولین ترجیح قرار دیا، جن میں اسرائیل، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ممالک کی سلامتی کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی خطرے کی صورت میں امریکا ان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس راستے کی سیکیورٹی کی بنیادی ذمہ داری ان ممالک پر عائد ہوتی ہے جو اس کا براہِ راست استعمال کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ضرورت پڑنے پر امریکا ان ممالک کی معاونت کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خطرے کے خاتمے کے بعد خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو کم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاکہ علاقائی ممالک خود اپنی سیکیورٹی ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔
ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ فوجی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی امن و استحکام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

