امریکی اور اسرائیلی میڈیا نے ایک تہلکہ خیز دعویٰ کیا ہے جس کے مطابق واشنگٹن نے تہران کے ساتھ جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ایک جامع 15 نکاتی امن منصوبہ تیار کیا ہے، جسے پاکستان کے سفارتی ذرائع کے ذریعے ایرانی قیادت تک پہنچا دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی اور اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امرکہ نے پاکستان کی مدد سے ایران کو 15 نکاتی امنمنصوبہ پہنچا دیا ہے اس اور پیش رفت کو خطے میں جنگ کے بادل چھٹانے کی سمت میں اب تک کی سب سے سنجیدہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جس میں پاکستان ایک کلیدی “سفارتی پل” کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اگرچہ اس منصوبے کی تمام تفصیلات ابھی تک باضابطہ طور پر عام نہیں کی گئیں، تاہم معتبر ذرائع کے مطابق اس امن فارمولے میں درج ذیل اہم نکات شامل ہو سکتے ہیں: جن میں اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست عسکری کارروائیوں پر فوری پابندی۔ اگر ایران مخصوص شرائط مانتا ہے تو اس پر عائد معاشی پابندیوں کو مرحلہ وار ختم کرنا۔ یورینیم کی افزودگی کو ایک خاص حد تک محدود رکھنے کے بدلے بین الاقوامی تعاون کی پیشکش۔
امریکی جریدے ‘نیویارک ٹائمز’ اور اسرائیلی میڈیا ہاؤسز کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے حالیہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش اسی بڑے منصوبے کا حصہ تھی۔ پاکستان کے تہران کے ساتھ برادرانہ اور واشنگٹن کے ساتھ دیرینہ تعلقات نے اسے اس حساس مشن کے لیے سب سے موزوں انتخاب بنا دیا ہے۔
دوسریجانب سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ 15 نکات دونوں فریقین قبول کر لیتے ہیں، تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا سب سے بڑا امن معاہدہ ثابت ہو سکتا ہے۔
جہاں اس خبر نے عالمی منڈیوں اور سیاسی حلقوں میں امید کی لہر دوڑا دی ہے، وہیں کچھ حلقے اسے شک کی نگاہ سے بھی دیکھ رہے ہیں۔ اسرائیل کے اندر موجود سخت گیر گروپ اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے تاحال اس 15 نکاتی منصوبے پر کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔ تاہم، واشنگٹن میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ مارکو روبیو اور جے ڈی وینس کی ٹیم اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دن رات کوشاں ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کے حملوں کے بعد یو اے ای نے سفارتی تعلقات معطل کر دیے، سفارتخانہ بند

