وزیراعظم شہباز شریف پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے صوبوں کو اس میں شامل کرنے کے لیے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو اعتماد میں لینے جا رہے ہیں، اس سلسلے میں آج اہم ملاقات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق یہ ملاقات ایوانِ صدر میں متوقع ہے جہاں دونوں رہنما پیٹرولیم سبسڈی اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے،ذرائع کا کہناہے کہ وفاقی حکومت اب تک پیٹرولیم مصنوعات پر 100 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کر چکی ہے، جس سے پورے ملک کے عوام مستفید ہو رہے ہیں۔حکومت اب اس بوجھ کو کم کرنے اور سبسڈی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں کو بھی اس میں شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔
اسی مقصد کے تحت وزیراعظم مختلف صوبائی قیادت سے بھی رابطے کر رہے ہیں تاکہ سبسڈی کے اخراجات کو مشترکہ طور پر برداشت کیا جا سکے،حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی راشن بندی کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کی تیاری بھی شروع کر دی ہےذرائع کے مطابق ایک خصوصی ایپ تیار کی جا رہی ہے جسے صارفین اپنے موبائل پر ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے، اس ایپ کے ذریعے ہر شہری کو اپنی گاڑی کا نمبر اور شناختی کارڈ نمبر درج کر کے رجسٹریشن کروانا ہو گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نظام کے تحت ہر شہری کے لیے اس کی ضرورت اور دستیابی کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کا ایک مخصوص کوٹہ مقرر کیا جائے گا،صارفین کو روزانہ کی بنیاد پر اسی مقررہ کوٹے کے مطابق پیٹرول یا ڈیزل فراہم کیا جائے گا، جس سے وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
حکومت نے پچھلے سال مارچ سے موجودہ مارچ تک پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال کا تقابلی جائزہ لیا ہے، جس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود استعمال میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے، یہی صورتحال حکومت کو راشن بندی کے نظام کی طرف جانے پر مجبور کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اس مجوزہ ڈیجیٹل نظام اور سبسڈی میں صوبوں کی شمولیت کے حوالے سے صدرِ مملکت کو مکمل بریفنگ دیں گے اور اہم فیصلوں کے لیے ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔