بھارت نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ ایران میں واقع چاہ بہار بندرگاہ منصوبے کے لیے اس کی جانب سے مزید کوئی مالی ذمہ داری باقی نہیں رہی، یہ بیان منگل کے روز پارلیمنٹ میں تحریری جواب کے دوران دیا گیا، جس میں اس منصوبے سے متعلق بھارت کی موجودہ پوزیشن کی وضاحت کی گئی۔
بھارتی وزارت خارجہ کے وزیر مملکت کیرتی وردھن سنگھ نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ 13 مئی 2024 کو بھارت پورٹس گلوبل لمیٹڈ نے ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کے ساتھ ایک دس سالہ معاہدہ کیا تھا، اس معاہدے کے تحت چاہ بہار بندرگاہ کے شہید بہشتی ٹرمینل کو سازوسامان سے لیس کرنے اور اس کے آپریشنز چلانے کی ذمہ داری شامل تھی۔
بھارتی وزیر م نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس معاہدے کے تحت بھارت نے اپنی مالی ذمہ داری پوری کر دی ہے، جس کے لیے 120 ملین امریکی ڈالر بندرگاہ کے سازوسامان کی خریداری کے لیے فراہم کیے گئے۔ ان کے مطابق یہ رقم منصوبے میں بھارت کی طے شدہ سرمایہ کاری تھی، جو مکمل طور پر ادا کی جا چکی ہے۔
پارلیمنٹ میں جمع کرائے گئے تحریری بیان میں واضح طور پر کہا گیا کہ بھارت نے بندرگاہ کے لیے سازوسامان کی خریداری کے لیے 120 ملین امریکی ڈالر کی اپنی کمٹمنٹ پوری کر دی ہے، لہٰذا حکومت ہند کی جانب سے اس منصوبے کے لیے مزید کوئی مالی ذمہ داری نہیں ہے۔
اس بیان کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھارت اب اس منصوبے میں اپنی مالی شمولیت کو مزید آگے بڑھانے کا ارادہ نہیں رکھتا اور اس نے اپنی ذمہ داری کو اسی سطح پر مکمل قرار دے دیا ہے۔
چاہ بہار بندرگاہ منصوبہ جس کے تحت بھارت نے ایک دہائی پر محیط معاہدہ کیا تھا، اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں نئی مالی سرمایہ کاری کے حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کی اہمیت بڑھ رہی ہے، تاہم بھارت کی جانب سے مزید مالی کمٹمنٹ نہ کرنے کے اعلان نے اس منصوبے کے آئندہ مالی پہلوؤں کے بارے میں بحث کو جنم دیا ہے۔