امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد بھارت کو ایک اور بڑا دھچکا ، بھارت نے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے عملی طور پر علیحدگی اختیار کر لی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت نے پابندیاں لاگو ہونے سے قبل ایران کو اپنی طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کر دی ہے جس کے بعد اب ایران اس سرمایہ کو بھارت کی شمولیت کے بغیر بندرگاہی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
پابندیوں کے نفاذ کے فوراً بعد انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ (IPGL) جو چابہار بندرگاہ کی ترقی اور آپریشن کی ذمہ دار ریاستی کمپنی تھی ، کے بورڈ پر موجود تمام سرکاری نامزد ڈائریکٹرز نے اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیا ، اس اقدام کو ممکنہ امریکی پابندیوں سے وابستہ افراد اور اداروں کو بچانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
This is BIG. India has exited Chabahar port after US imposed sanctions on the port. India has paid out its committed $120 m to Iran before sanctions kick in. Iran can do what it wants with the money to carry on operations at the port independently without any involvement from…
میڈیا رپورٹ کے مطابق اسی تناظر میں انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ کی ویب سائٹ بھی بند کر دی گئی، تاکہ کمپنی اور اس سے منسلک افراد کو کسی بھی ممکنہ قانونی یا مالی دباؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔
قبل ازیں اکتوبر میں نئی دہلی کی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ بھارت کو ایران میں واقع اسٹریٹجک چاہ بہار بندرگاہ منصوبے پر امریکی پابندیوں سے 6 ماہ کی چھوٹ دے دی گئی ہے لیکن دوبارہ پابندیوں نے یہ معاملہ بھارتی حکومت کے بس سے باہر ہوگیا ہے۔
یاد رہے کہ سال 2024 میں میں بھارت نے 10 سال کے لیے ایران کی چابہار بندرگاہ کا انتظام سنبھالاتھا۔
گزشتہ برس اگست سے بھارت کی کئی برآمدات پر امریکا میں 50 فیصد تک ٹیرف عائد ہے، جو کسی بھی بڑی معیشت کے لیے غیر معمولی طور پر زیادہ ہے، امریکا جو اشیا اور خدمات کے شعبے میں بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اس کے ساتھ پیدا ہونے والے اس تنازع نے نئی دہلی کو بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔
چابہار بندرگاہ کو خطے میں تجارت اور ٹرانزٹ کے لیے اہم سمجھا جاتا تھا، تاہم حالیہ پیش رفت کے بعد اس منصوبے میں بھارت کا کردار ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ ایران اب بندرگاہ کو اپنی نگرانی میں آگے بڑھانے کا اختیار رکھتا ہے۔
چابہار ایران کی ایک بندرگاہ ہے جو خلیجِ عمان سے جڑی ہے اور یہ بحیرہ عرب کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے جغرافیائی لحاظ سے ایک انتہائی اہم مقام رکھتا ہ، چابہار بندرگاہ کو ‘گیٹ وے ٹو سینٹرل ایشیا’ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ افغانستان، وسطی ایشیائی ممالک اور ایران کو سمندر سے جوڑنے کا ایک متبادل راستہ فراہم کرتی ہے جو پاکستان کی گوادر بندرگاہ کے مقابلے میں بھارت کے لیے ایک اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔