اسرائیل ایرانی وزیر خارجہ اور سپیکر کو نشانہ بنانے ہی والا تھا کہ پاکستانی انٹیلیجنس نے منصوبہ پکڑ لیا اور امریکہ سے رکوایا، خبر رساں ایجنسی رائٹرز کا دعوی
Home - دنیا - اسرائیل ایرانی وزیر خارجہ اور سپیکر کو نشانہ بنانے ہی والا تھا کہ پاکستانی انٹیلیجنس نے منصوبہ پکڑ لیا اور امریکہ سے رکوایا، خبر رساں ایجنسی رائٹرز کا دعوی
خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل عباس عراقچی اور پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف کو نشانہ بنانے ہی والا تھا کہ پاکستانی انٹیلیجنس نے منصوبہ پکڑ لیا اور امریکہ سے رکوایا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل ان دونوں ایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا تھا اور ان کے ٹھکانوں کی معلومات بھی رکھتا تھا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکہ کو پیغام دیا کہ اگر ان شخصیات کو بھی ختم کر دیا گیا تو مذاکرات کے لیے کوئی فریق باقی نہیں رہے گا، جس کے بعد امریکہ نے اسرائیل سے پیچھے ہٹنے کا کہا۔
پاکستانی فوج اور دفتر خارجہ نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا، جبکہ اسرائیلی فوج نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے بھی فوری جواب موصول نہیں ہوا۔
امریکی اخباردی وال اسٹریٹ جرنل نے سب سے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ دونوں اعلیٰ ایرانی عہدیداروں کو ممکنہ امن مذاکرات کے پیش نظر عارضی طور پر اسرائیل کی ہدفی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ اخبار کے مطابق امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ اقدام چار سے پانچ دن کے لیے کیا گیا، تاہم اس میں پاکستان کے کردار کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
پاکستان، مصر اور ترکی ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب دیگر ممالک کے لیے سفارتی رابطے منجمد ہیں، اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ براہ راست رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے اور ممکنہ امن مذاکرات کے لیے اسے ایک ممکنہ مقام بھی سمجھا جا رہا ہے۔