بھارت میں پیٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت نے ملک بھر میں بحرانی کیفیت پیدا کر دی ہے، جہاں متعدد شہروں میں پیٹرول پمپس پر شہریوں کی طویل قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ انتظامیہ کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کئی مقامات پر پولیس تعینات کرنا پڑ گئی ہے۔
بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایندھن کی قلت کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ کئی علاقوں میں پیٹرول پمپس کے باہر 24 گھنٹوں سے زائد طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں، جہاں لوگ اپنی باری کے انتظار میں دن رات کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بعض پیٹرول پمپس پر ایندھن کی فراہمی محدود ہونے کے باعث جھگڑوں اور بدنظمی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جس کے بعد مقامی انتظامیہ نے فوری طور پر پولیس کو طلب کر کے صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ شہریوں کے مطابق شدید رش کے باعث یہ خدشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ کہیں پیٹرول مکمل طور پر دستیاب نہ رہے۔
بھارتی شہریوں نے حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بحران اچانک نہیں بلکہ ناقص منصوبہ بندی اور پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ایک شہری کا کہنا تھا کہ ‘ہم گزشتہ 24 گھنٹوں سے قطار میں کھڑے ہیں، مگر ابھی تک پیٹرول نہیں ملا، حکومت کو پہلے سے تیاری کرنی چاہیے تھی’۔
ماہرین معاشیات اور توانائی کے تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ بحران کئی عوامل کا مجموعہ ہے، جن میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، درآمدی مشکلات، ذخیرہ اندوزی، اور حکومتی سطح پر بروقت فیصلوں کی کمی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں نے نریندر مودی کی حکومت کی توانائی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ طویل المدتی منصوبہ بندی کی کمی اور متبادل توانائی ذرائع پر کم توجہ نے ملک کو اس نہج پر پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق ایندھن بحران کے اثرات معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، جس کے باعث صنعتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے۔
مزید برآں، ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ ایران کے ساتھ بھارت کے تعلقات اور توانائی کے شعبے میں پالیسی تضادات بھی اس بحران میں بالواسطہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بھارت اپنی توانائی حکمت عملی کو متوازن نہ کر سکا تو مستقبل میں ایسے بحران بار بار سامنے آ سکتے ہیں۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے تاحال اس بحران پر کوئی جامع اور واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی، جس کے باعث عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق حکام ہنگامی بنیادوں پر ایندھن کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔