بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے نئے قرض پروگرام کے لیے سخت شرائط عائد کردی ہیں۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے شرط عائد کی ہے کہ حکومت پاکستان اسٹیٹ بینک سے قرض نہیں لے گی اور صرف سکوک بانڈز اسٹاک مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ہوگی۔ آئی ایم ایف نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ڈالر کی شرح تبادلہ کا تعین مارکیٹ کرے اور شرح سود افراط زر کے مطابق مقرر کی جائے اور اسٹیٹ بینک افراط زر پر قابو پانے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی پر عمل درآمد کرے۔
یہ بھی پڑھیں: کرغزستان، پاکستانی طلبہ کے ہاسٹل پر حملہ، وزیراعظم شہباز شریف کی اہم ہدایات
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قرضے اور سود کی ادائیگیاں ایک بڑی وجہ ہے،عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان سے پنشن سمیت دیگر اخراجات میں کمی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال میں قرضوں اور سود کی ادائیگیوں پر تخمینہ 9 ہزار 787 ارب روپے اور رواں مالی سال میں 8 ہزار 371 ارب روپے خرچ کیے جاسکتے ہیں ۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف پہلے 9 ماہ میں اندرونی اور بیرونی قرضوں پر سود کی مد میں 5 ہزار 518 ارب روپے ادا کیے گئے ہیں اور آئندہ مالی سال میں قرضوں اور جی ڈی پی کا تناسب 72.1 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
3لاکھ سے 5 لاکھ آمدن پرٹیکس بڑھانے کا مطالبہ :
دوسری جانب گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کی جانب سے تنخواہ دار طبقے پر نئی شرط عائد کرتے ہوئےٹیکس سلیب میں تبدیلی کی تجویز دی تھی۔ آئی ایم ایف کا مطالبہ کیا تھا کہ 3لاکھ سے 5لاکھ آمدن پر ٹیکس بڑھایاجائے۔
تنخواہ دار طبقے کی بلند ترین قابلِ ٹیکس آمدنی کی حد نیچے لائی جارہی ہے، اس کے نتیجے میں ماہانہ 3 لاکھ 33 ہزار روپے کمانے والوں کو کم و بیش 35 فیصد انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔کاروباری شخصیات سے 3 لاکھ 33 ہزار روپے ماہانہ کی بنیاد پر 35 فیصد انکم ٹیکس چارج کیا جارہا ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے کے لیے بلند ترین انکم ٹیکس ماہانہ 5 لاکھ روپے کی حد سے شروع ہوتا ہے۔آئی ایم ایف نے حکومت کو پابند کیا ہے کہ انکم ٹیکس سے چھوٹ کی حد 50 ہزار روپے ماہانہ رہنے دی جائے، اس میں مزید رعایت نہ دی جائے۔اس کے نتیجے میں لوئر مڈل کلاس کے وہ لوگ متاثر ہوں گے جن کی ماہانہ تنخواہ 50 ہزار سے ایک لاکھ درمیان ہے۔
یہ بھی پڑھیں فوربز نے انڈر 30 ایشیا کی فہرست جاری کر دی،7 پاکستانی نوجوان بھی شامل
دوسری جانب آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2028تک پاکستان میں مہنگائی کی شرح 6.5فیصد تک گر جائیگی۔ مالی سال 2027میں بھی مہنگائی کی شرح 6.5فیصد تک رہے گی۔مالی سال 2026میں مہنگائی کی شرح 7.6فیصد رہے گی۔ رپورٹ کے مطابق آئندہ مالی سال پاکستان میں مہنگائی کی شرح 12.7 فیصد رہے گی،آئی ایم ایف نے آئندہ 4 سالوں میں جی ڈی پی گروتھ میں بھی مسلسل اضافے کی پیش گوئی کی ہے ،جس کے مطابق 2028 تک پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 5 فیصد تک پہنچ جائے گی، آئی ایم ایف نے چار سالوں میں سرکاری ذخائر میں مسلسل اضافے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ 2028 میں پاکستان کے سرکاری ذخائر 20.2 ارب ڈالر ہو جائیں گے۔