ایرانی ہیکرز نے ایف بی آئی ڈائریکٹر کی ای میلز ہیک کرلی، اہم معلومات لیک، عالمی سطح پر ہلچل

ایرانی ہیکرز نے ایف بی آئی ڈائریکٹر کی ای میلز ہیک کرلی، اہم معلومات لیک، عالمی سطح پر ہلچل

ایران سے منسوب ایک ہیکر گروپ کی جانب سے امریکی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ کاش پٹیل کی ذاتی ای میلز ہیک کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کی تصدیق ایف بی آئی نے بھی کر دی ہے۔ اس واقعے نے سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق خود کو ‘ہنڈالا ہیک ٹیم’ کہنے والے گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کاش پٹیل کی ذاتی ای میلز، تصاویر اور چند اہم دستاویزات تک رسائی حاصل کی۔ ہیکرز کا کہنا ہے کہ حاصل کردہ مواد میں سے کچھ حصہ آن لائن بھی شیئر کیا جا چکا ہے، جس سے مزید خدشات جنم لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان سائبر ٹیم کا بھارتی ہیکرز کو کرارا جواب،3 کروڑ سبسکرائبر والا نیوز چینل ہیک، نشریات بند، سکرین پر ہلا دینے والا پیغام جاری

ذرائع کے مطابق ہیکرز نے مبینہ طور پر ‘2’ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ڈیٹا کے نمونے جاری کیے، جن میں ذاتی نوعیت کی معلومات شامل ہیں۔ تاہم ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مواد زیادہ تر پرانا ہے اور اس میں حالیہ حساس معلومات شامل نہیں۔

ایف بی آئی نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ ہیکنگ واقعہ صرف ذاتی ای میل اکاؤنٹ تک محدود ہے اور سرکاری یا دفتری ای میل سسٹم مکمل طور پر محفوظ ہے۔ ادارے کے مطابق کسی بھی حساس یا خفیہ حکومتی معلومات کے افشا ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

ادارے نے مزید بتایا کہ واقعے کے فوری بعد سیکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور ممکنہ خطرات کو کم کرنے کے لیے جدید سائبر سیکیورٹی پروٹوکولز نافذ کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق اس بات کی بھی تحقیقات جاری ہیں کہ ہیکرز نے رسائی کیسے حاصل کی اور آیا اس میں کسی اندرونی کمزوری کا کردار تھا یا نہیں۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی ذاتی ای میلز کو نشانہ بنانا ایک خطرناک رجحان بن چکا ہے، کیونکہ بسا اوقات ذاتی اکاؤنٹس کے ذریعے حساس معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ‘سوشل انجینئرنگ’ اور ‘فشنگ’ جیسے طریقے اکثر اس طرح کے حملوں میں استعمال ہوتے ہیں۔

دوسری جانب، مبینہ ایرانی ہیکر گروپ کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔ ماضی میں بھی ایسے گروپس پر مختلف ممالک کے اہم اداروں اور شخصیات کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں، جس سے بین الاقوامی سطح پر سائبر جنگ کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد نہ صرف امریکہ بلکہ دیگر ممالک بھی اپنی سائبر سیکیورٹی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے سکتے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *