گلوبل ساؤتھ کی قیادت کا دعویٰ دھوکہ ثابت ہوا ، مودی کی شرمناک معاشی و تجارتی پسپائی بے نقاب

گلوبل ساؤتھ کی قیادت کا دعویٰ دھوکہ ثابت ہوا ، مودی کی شرمناک معاشی و تجارتی پسپائی بے نقاب

بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی کے دور حکومت میں سفارتی اور دفاعی ناکامیوں کے بعد معاشی اور تجارتی میدان میں بھی پسپائی کے شواہد سامنے آنے لگے ہیں جہاں گلوبل ساؤتھ کی قیادت کا دعویٰ بھی غیر مؤثر ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق خودمختاری اور گلوبل ساوتھ کی قیادت کا دعویدار بھارت اپنی معاشی ترجیحات کو پس پشت ڈال کر بڑی عالمی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے جھکتا نظر آ رہا ہے۔

بھارتی جریدے دی وائر نے اپنی رپورٹ میں ان ناکامیوں کو نمایاں کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی حکومت عالمی تجارتی تنظیم کی کانفرنس سے کسی بڑی کامیابی کے بغیر واپس لوٹی جو اس کی معاشی حکمت عملی پر سوالیہ نشان ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے ڈیجیٹل مواد کی ترسیل پر کسٹم ڈیوٹی عائد نہ کرنے کی امریکی شرط کو قبول کرنے کا عندیہ دیا، جبکہ سرمایہ کاری سہولت معاہدہ بھی بغیر کسی مؤثر مزاحمت کے تسلیم کر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں :نفرت، سنسنی اور جھوٹ کا پرچار ، بھارت کا گودی میڈیا بین الاقوامی سطح پر بے نقاب

دی وائر کے مطابق بھارت نے اپنے کسانوں کے مفادات کے برعکس خوراک کی عوامی ذخیرہ اندوزی کے معاملے پر بھی پسپائی اختیار کی، جسے امریکی مؤقف کی حمایت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں بھی مودی حکومت کو ملکی مفادات کو اسرائیل سے تعلقات پر قربان کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی نااہلی کے باعث بھارتی معیشت کو توانائی بحران، کرنسی پر دباؤ اور ترسیلات زر میں کمی جیسے سنگین مسائل درپیش ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کا ایک بڑی اقتصادی قوت بننے کا خواب موجودہ پالیسیوں کے باعث متاثر ہو چکا ہے اور مودی حکومت کی معاشی حکمت عملی پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اس بیان سے ناصرف لاطینی امریکا بلکہ عالمی سطح پر بھی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ یہ اشارہ ممکنہ فوجی یا سیاسی مداخلت کی طرف جا سکتا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *