پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد سندھ حکومت نے موٹر سائیکل سواروں کو ماہانہ 2000 روپے دینے کا اعلان کردیا ، تاہم یہ رقم کیسے حاصل کی جاسکتی ہے جاتے ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عوام کو بڑی خوشخبری سنادی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومتِ سندھ ہر موٹر سائیکل سوار کو ماہانہ 2ہزار روپے فیول سبسڈی فراہم کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے سبسڈی حاصل کرنے کے طریقہ کے حوالے سے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت رقم کی منتقلی کے لیے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ جلد ایک موبائل ایپلی کیشن لانچ کرے گا، جہاں شہری اپنا شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹ (IBAN) نمبر درج کر کے رقم حاصل کر سکیں گے۔
انھوں نے بتایا کہ موٹر سائیکل مالکان کو اس ایپ میں اپنا شناختی کارڈ (CNIC) نمبر درج کرنا ہوگا، جس کے ذریعے سسٹم خودکار طریقے سے تصدیق کرے گا کہ گاڑی درخواست گزار کے نام پر رجسٹرڈ ہے یا نہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ اگر موٹر سائیکل مالک کے نام پر نہیں ہوگی تو وہ سبسڈی کے لیے اہل نہیں ہوگا، وہ تمام افراد جنہوں نے موٹر سائیکل خرید لی ہے لیکن اپنے نام ٹرانسفر نہیں کرائی، وہ 15 دن کے اندر اسے مفت ٹرانسفر کروا سکتے ہیں تاکہ شہری فوری طور پر گاڑی اپنے نام منتقل کروا سکیں۔
حکومت نے ٹرانسفر فیس بھی ختم کر دی ہے تاکہ صرف اصل مالکان کو ہی سبسڈی مل سکے، توقع ہے کہ سبسڈی کی 15 سے 20 اپریل کے درمیان یہ رقوم اکاونٹس میں منتقل کر دی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں حکومت کو “مشکل فیصلے” کرنے پڑے، لیکن یہ سبسڈی عام شہریوں کو ریلیف دینے کی ایک کوشش ہے۔
مرادعلی شاہ کا کہنا تھا کہ انٹراسٹی اور انٹرسٹی مسافر بسوں کو 1 لاکھ 40 ہزار روپے فی بس سبسڈی دی جائے گی ، اس اقدام کا مقصد بسوں کے کرایوں کو مستحکم رکھنا ہے؛ سبسڈی لینے والی بسیں کرایہ بڑھانے کی مجاز نہیں ہوں گی۔ تاہم، یہ سہولت گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے نہیں ہوگی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا ایران پر جنگ مسلط کی گئی ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، خطے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور پاکستان، تیل کی درآمدات پر زیادہ انحصار کے باعث براہِ راست متاثر ہو رہا ہے۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ فیلڈ مارشل اور وزیراعظم جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جبکہ وفاقی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطہ اور کئی اہم اجلاس منعقد کیے گئے، گزشتہ روز تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اسلام آباد میں موجود تھے جہاں اہم فیصلے کیے گئے۔