ناسا کا تاریخی مشن ’آرٹیمس ٹو‘ 53 سال بعد انسان کو لے کر چاند کیجانب روانہ

ناسا کا تاریخی مشن ’آرٹیمس ٹو‘ 53 سال بعد انسان کو لے کر چاند کیجانب روانہ

امریکی خلائی ادارے ناسا نے طویل انتظار کے بعد تقریبا 53 سال بعد ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے پہلی بار انسانوں کو چاند کے گرد بھیجنے کے لیے آرٹیمس ٹو مشن کامیابی سے لانچ کر دیا ہے۔

4 خلا بازوں پر مشتمل عملہ 10 روزہ مشن میں تقریباً 6 لاکھ 85 ہزار میل کا سفر کرتے ہوئے چاند کے گرد چکر لگائے گا اور پھر زمین پر واپس آئے گا۔

برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک ناسا اہلکار نے اس مشن کے مدار میں پہنچنے کے بعد تصدیق کی کہ خلائی جہاز پر موجود عملہ محفوظ، پُراعتماد اور بہترین موڈ میں ہے ۔

اس 10 روزہ مشن کے دوران خلائی جہاز چاند پر نہیں اُترے گا، بلکہ اس کے گرد چکر لگانے کا منصوبہ ہے، اور ممکن ہے کہ یہ زمین سے اتنی دور جائیں جتنا کوئی انسان پہلے کبھی نہیں گیا۔

یہ سفر تاریخی ہے کیونکہ یہ خلا میں اب تک کے طویل ترین فاصلے، یعنی 2 لاکھ 52 ہزار (4 لاکھ 6 ہزارکلومیٹر) تک سفر کرے گا، جو اپولو 13 کے ریکارڈ سے بھی آگے ہے۔

آخری بار جب انسانوں نے چاند کی سطح پر قدم رکھے تھے، وہ 1972 میں ’اپالو مشنز’ کا آخری مشن تھا اور چاند پر اترنے کا یہ منفرد اعزاز اب تک صرف امریکا کو ہی حاصل ہے۔

مشن ’آرٹیمس ٹو‘ میں ٹیم کی قیادت ریڈ وائزمین بطور کمانڈر کر رہے ہیں، جبکہ کرسٹینا کوچ چاند کے کسی بھی مشن کا حصہ بننے والی پہلی خاتون خلانورد ہیں، وکٹر گلوور چاند کی جانب سفر کرنیوالے پہلے سیاہ فام خلانورد کے طور پر اپنی شناخت بنا رہے ہیں، اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے جیرمی ہینسن اس مشن میں شامل ہونے والے پہلے غیر ملکی خلانورد ہیں۔

ناسا حکام کے مطابق یہ مشن نہ صرف چاند پر مستقل انسانی موجودگی کے خواب کو حقیقت کے قریب لانے میں مدد دے گا بلکہ مستقبل میں مریخ تک انسانی رسائی کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : آئی فون صارفین کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی! سائبر حملوں سے کیسے بچا جائے؟

ادارے کے ایڈمنسٹریٹر جیریڈ آئزک مین نے کہا کہ امریکہ 2028 تک چاند کے جنوبی قطب پر انسان اتارنے کا ہدف رکھتا ہے، تاکہ چین کے متوقع 2030 کے مشن سے پہلے برتری حاصل کی جا سکے،  یہ کوشش چین کے ساتھ ایک نئی خلائی دوڑ کا بھی حصہ سمجھی جا رہی ہے۔

لانچ کے بعد خلائی جہاز نے کامیابی سے اپنے ابتدائی مراحل مکمل کیے، اور خلا بازوں نے دستی طور پر جہاز کو کنٹرول کرنے کی مشق بھی کی،  اس سے یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ اگر خودکار نظام میں کوئی خرابی ہو جائے تو خلا باز خود جہاز کو سنبھال سکیں۔

ناسا حکام کے مطابق یہ مشن نہ صرف سائنسی لحاظ سے اہم ہے بلکہ یہ مستقبل میں مریخ جیسے سیاروں تک انسانی سفر کی راہ بھی ہموار کرے گا ، اس کامیابی کو دنیا بھر میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

آرٹیمس پروگرام سائنسدانوں کی برسوں کی محنت کا نتیجہ ہے، اور اس کاوش میں ہزاروں افراد شامل رہے ہیں اور اب تک اس پر تقریباً 93 ارب ڈالر لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *