مصنوعی ذہانت اس وقت دنیا بھر میں ایک انقلابی تبدیلی کے طور پر ابھری ہے، جس نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنے قدم جما لیے ہیں۔ جہاں یہ ٹیکنالوجی انسانی کاموں کو سیکنڈوں میں مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، وہی ماہرینِ نفسیات اور ٹیکنالوجی کے ماہرین نے اس کے بے دریغ استعمال سے پیدا ہونے والے سنگین خطرات سے خبردار کیا ہے۔
موجودہ دور کے جدید اے آئی ٹولز، جیسے چیٹ بوٹس اور خودکار سافٹ وئیرز، پیچیدہ سے پیچیدہ کاموں کو پلک جھپکتے میں انجام دے رہے ہیں۔ ای میلز کی تیاری، طویل کتابوں کے خلاصے اور روزمرہ کے دفتری پیغامات لکھنے کے لیے اب گھنٹوں کی محنت درکار نہیں رہی۔ اس ٹیکنالوجی نے نہ صرف وقت کی بچت کی ہے بلکہ پیداواری صلاحیت میں بھی بے پناہ اضافہ کیا ہے۔
تاہم، اس سہولت کی ایک بھاری قیمت بھی چکانی پڑ سکتی ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق: معلومات تک فوری رسائی نے انسانوں میں گہری تحقیق اور سوچ بچار کے رجحان کو کم کر دیا ہے۔ صارفین معلومات کو سمجھنے کے بجائے صرف سرسری طور پر دیکھنے لگے ہیں، جس سے سیکھنے کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔
جب انسان مسائل کے حل کے لیے مکمل طور پر مشینوں پر انحصار کرتا ہے، تو اس کے دماغ کے وہ حصے غیر فعال ہو جاتے ہیں جو معلومات کو محفوظ رکھنے اور ضرورت کے وقت یاد کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کا “غلط استعمال” ہے۔ جس طرح ہم کسی ڈاکٹر یا انجینئر سے مشورہ لیتے ہیں لیکن اپنی زندگی کے فیصلے خود کرتے ہیں، اسی طرح اے آئی کو بھی محض ایک معاون کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔
انسانی بقاء اور ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے کہ مشکل کاموں اور تخلیقی منصوبوں میں اپنے دماغ کا استعمال جاری رکھا جائے تاکہ دماغی کارکردگی متاثر نہ ہو۔
بین الاقوامی سطح پر اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے سخت قوانین اور حدود طے کی جائیں۔ ماہرین کے مطابق، اگر اس ٹیکنالوجی کو اعتدال میں نہ لایا گیا تو یہ انسانی بقاء اور انفرادی صلاحیتوں کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔