جائیداد رکھنے اور خرید و فروخت کرنے والوں کے لیے بڑی خبر ہے کہ پنجاب حکومت اس حوالے سے بڑی قانونی سازی کر رہی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق جائیداد رکھنے اور اس کی خرید و فروخت کرنے والوں کے لیے بڑی خبر ہے کہ حکومت پنجاب نے جائیداد کی دستاویزات کے لیے بائیو میٹرک ویری فکیشن لازم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس حوالے سے جامع قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔
جائیداد کی دستاویزات کی بائیومیٹرک تصدیق لازم قرار دینے کے لیے پنجاب اسمبلی میں رجسٹریشن (ترمیمی) ایکٹ 2025 پیش کر دیا گیا ہے، اس بل کے تحت رجسٹریشن ایکٹ 1908 میں اہم ترامیم کی جائیں گی۔
رجسٹریشن ایکٹ میں بائیو میٹرک ویری فکیشن کی نئی شق شامل کرنے کی تجویز ہے اور اس کے متن میں کہا گیا ہے کہ جائیدادوں کے ساتھ جن اشیا کی رجسٹریشن لازمی ہے، ان کی بائیو میٹرک بھی کروانا ہوگی۔
بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی جدید الیکٹرانک ریکارڈ سسٹم تشکیل دے گی، شناخت کے لیے بائیو میٹرک اور الیکٹرانک سگنیچر لازم ہوں گے اور ڈیٹا محفوظ کیا جائے گا۔
تمام الیکٹرانک ڈیٹا پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے پاس مستقل محفوظ رہے گا۔
پیش کردہ بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ بورڈ آف ریونیو اور آئی جی رجسٹریشن ایکٹ کے تحت بنے اداروں کے فرائض کنٹرول کرینگے۔
پنجاب اسمبلی نے بل مزید غور کے لیے متعلقہ کمیٹی کے حوالے کرتے ہوئے رپورٹ 2 ماہ میں طلب کی ہے جبکہ کمیٹی رپورٹ کے بعد بل ایوان سے منظور کروایا جائے گا، جس کے بعد اس کی حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔