ایران جنگ مختصر نہیں، عشروں پر محیط ہو گی، نئی صف بندیاں ہونے والی ہیں، ترکیہ انٹیلی جنس سربراہ کے ہوشربا انکشافات

ایران جنگ مختصر نہیں، عشروں پر محیط  ہو گی، نئی صف بندیاں ہونے والی ہیں، ترکیہ انٹیلی جنس سربراہ کے ہوشربا انکشافات

ترکیہ کی خفیہ سروس کے سربراہ ابراہیم قالن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی محض ایک محدود تنازع نہیں بلکہ ایک طویل اور خطرناک علاقائی جنگ کی بنیاد بن سکتی ہے، جس کے اثرات آنے والے عشروں تک محسوس کیے جائیں گے۔

اپنے ایک خصوصی خطاب میں ابراہیم قالن نے کہا کہ اس جنگ کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کے 8 ارب انسانوں کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات ایک بڑے جیو پولیٹیکل تصادم کی شکل اختیار کر سکتے ہیں جس میں متعدد ممالک براہ راست یا بالواسطہ طور پر شامل ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:4 ملکی وزرائے خارجہ کی اہم بیٹھک میں شرکت کے لئے ترکیہ کے وزیر خارجہ اسلام آباد پہنچ گئے

ابراہیم قالن نے قیام امن کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے سفارتی اقدامات اور مذاکراتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ اور فوری سفارتی اقدامات ناگزیر ہیں، ورنہ صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے‘۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک پر ایران کے ممکنہ حملے ناقابل قبول ہیں، تاہم اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس تنازع کا آغاز کس نے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں صرف ردعمل نہیں بلکہ اصل وجوہات کو بھی دیکھنا ہوگا، کیونکہ یہی عوامل جنگ کو طول دینے کا باعث بنتے ہیں’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ اس ‘آگ کے گولے’ کو اپنے ہاتھوں میں لے کر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرے گا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرے گا۔ ابراہیم قالن کے مطابق جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ دراصل موجودہ حالات کا پیش خیمہ تھی، جس کے ذریعے بڑی طاقتوں نے خطے کے ردعمل اور ممکنہ منظرناموں کا جائزہ لیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس تنازع کے نتیجے میں ترکیہ، کرد، عرب اور فارسی اقوام کے درمیان ایک طویل المدتی تقسیم پیدا کی جا رہی ہے، جو آنے والے 20 سے 30 برسوں تک خطے کو عدم استحکام کا شکار رکھ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ صرف ایک جنگ نہیں بلکہ ایک ایسی اسٹریٹجک بساط بچھائی جا رہی ہے جس کے اثرات نسلوں تک منتقل ہوں گے‘۔

ترکیہ انٹیلی جنس سربراہ نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ خطے میں پہلے سے موجود خلیج کو مزید گہرا کر دے گی، جس سے نہ صرف سیاسی بلکہ سماجی اور معاشی عدم استحکام بھی بڑھے گا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’بدقسمتی سے اس علاقائی جنگ کی قیمت 8 ارب انسانوں کو کسی نہ کسی شکل میں چکانا پڑے گی‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ شروع کرنے والے عناصر لبنان، شام، فلسطین اور دیگر حساس علاقوں میں نئے زمینی حقائق پیدا کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں سرحدوں، طاقت کے توازن اور سیاسی اتحادوں میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فوری طور پر جنگ بندی اور مذاکرات کا آغاز نہ کیا گیا تو صورتحال ایک بڑے عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں:ترکیہ ایران جنگ سے دور رہنا چاہتا ہے، کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے: صدر طیب اردوان

ابراہیم قالن نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے عملی اقدامات کرے اور ایک جامع امن منصوبہ تشکیل دے۔ انہوں نے کہا کہ ‘یہ وقت تاریخ کا ایک نازک موڑ ہے، اگر آج فیصلے نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں اس کے سنگین نتائج بھگتیں گی’۔

ترکیہ کی جانب سے یہ بیان نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کی بڑی طاقتیں ممکنہ طویل جنگ کے خطرات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو یہ تنازع عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی اور امن و سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *