مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی اور ذخائر کے حوالے سے جاری تمام تر خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت تیل کے وافر ذخائر موجود ہیں اور کسی بھی قسم کی تشویش کی ضرورت نہیں ہے۔
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے معیشت اور توانائی کے شعبے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سے قوم کو آگاہ کیا۔
خرم شہزاد نے انکشاف کیا کہ حکومت کی بہتر حکمتِ عملی کے باعث ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ، جو پہلے 24 دن کا تھا، اب بڑھ کر 4 ہفتوں (یعنی ’28’ دن) تک پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ رواں ماہ مارچ اور آنے والے مہینے اپریل کے لیے تیل کے ذخائر کافی ہیں اور سپلائی کے حوالے سے مارکیٹ میں کسی قسم کی قلت پیدا نہیں ہونے دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ذخائر کی صورتحال میں روز بروز مزید بہتری آ رہی ہے اور سپلائی چین کو ہر سطح پر مانیٹر کیا جا رہا ہے۔
حکومتی پالیسیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے مشیر وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے غیر ضروری اخراجات میں نمایاں کمی کر کے 1.25 ارب روپے کی خطیر رقم کی سپورٹ فراہم کی ہے، جس کا مقصد توانائی کے شعبے کو استحکام دینا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کفایت شعاری کی اعلیٰ مثال قائم کر رہی ہے تاکہ عوامی ٹیکسوں کے پیسے کا بہترین استعمال ہو سکے۔ خرم شہزاد نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ قومی مفاد میں حکومت کا ساتھ دیں اور توانائی کے استعمال میں اعتدال پسندی اختیار کریں تاکہ ملک کو معاشی مشکلات سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ دفاعی اور معاشی ماہرین نے تیل کے ذخائر میں اس اضافے کو ملکی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔