سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بینکوں اور ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے عوامی جیبوں پر ڈالے جانے والے مبینہ ڈاکے کا کچا چٹھا کھل کر سامنے آ گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق انکشاف ہوا ہے کہ بینک صارفین سے شارٹ میسج سروس (ایس ایم ایس سروس) کی مد میں سالانہ 18 ارب 70 کروڑ روپے وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایک میسج کی اصل لاگت صرف ایک سے 2 پیسے ہے لیکن صارفین سے 3 روپے 40 پیسے چارج کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بینک اور ٹیلی کام کمپنیاں ناصرف بینکنگ الرٹس بلکہ اپنی تشہیری مہم اور سروس میسجز کی لاگت بھی صارفین کے اکاؤنٹس سے ہی وصول کرتی ہیں، اس طرح بینکوں نے اے ٹی ایم کارڈ، ایس ایم ایس، اور دیگرسالانہ سروس چارجز 15 سو سے بڑھا کر 4000 روپے علاوہ ٹیکسزکر دیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بینکوں کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 2021 میں ایک ایس ایم ایس کے چارجز محض 42 پیسے تھے جو 2025 میں بڑھا کر 3 روپے 40 پیسے کر دیے گئے۔
انہوں نے ملبہ ٹیلی کام کمپنیوں پر ڈالتے ہوئے کہا کہ جب تک وہاں سے نرخ کم نہیں ہوتے، بینک کچھ نہیں کر سکتے۔ تاہم، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک عنایت حسین نے بتایا کہ بینکوں نے ٹیلی کام کمپنیوں کو 25 ارب 60 کروڑ روپے کی ادائیگی کی ہے، جس میں 7 ارب روپے اضافی ادا کیے گئے۔
سینیٹر عبدالقادر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بینک سالانہ 400 ارب روپے منافع کما رہے ہیں، اگر وہ 7 ارب روپے خود ادا کر دیں تو کوئی بڑی بات نہیں، لیکن 2 پیسے کا ایس ایم ایس 300 پیسے میں بیچنا سراسر ناانصافی ہے۔
سینیٹر انوشہ رحمان نے بھی اس لوٹ مار کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کمرشل بینک اس مد میں بھاری پیسہ بنا رہے ہیں۔ دوسری جانب ٹیلی کام کمپنی کے نمائندے نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بزنس شفاف ہے اور کئی بار آڈٹ ہو چکا ہے، ان پر ’چور اچکوں‘ کا لیبل بلاوجہ لگایا جا رہا ہے۔
چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے معاملے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے تمام بینکوں اور ٹیلی کام کمپنیوں سے صارفین سے وصول کی گئی رقم کا ایک سال کا مکمل ڈیٹا طلب کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیٹا ملنے کے بعد فی ایس ایم ایس لاگت کا نئے سرے سے تعین کیا جائے گا اور صارفین کو اس استحصال سے نجات دلانے کے لیے مستقل حل نکالا جائے گا۔ 2026 کے اس آغاز میں سینیٹ کمیٹی کا یہ ایکشن بینکنگ صارفین کے لیے بڑی راحت کی خبر ثابت ہو سکتا ہے۔