پاکستان میں 5 ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کے خاتمے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں پر گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے واضح اور حتمی مؤقف دیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ملک میں 5 ہزار روپے کا نوٹ نہ تو ختم کیا جا رہا ہے اور نہ ہی اسے متروک قرار دینے کا کوئی فیصلہ ہوا ہے ایسی تمام خبریں من گھڑت اور گمراہ کن ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہاکہ اسٹیٹ بینک اور حکومتِ پاکستان کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن پر کام ضرور کر رہے ہیں تاہم اس عمل کا مقصد نوٹوں کی سیکیورٹی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگی ہے، نہ کہ کسی خاص مالیت کے نوٹ کو مارکیٹ سے نکالنا۔
انہوں نے واضح کیا کہ نئے ڈیزائن کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی اور جب بھی کوئی فیصلہ ہوگا، اس سے عوام کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا۔
گورنر جمیل احمد نے کہا کہ اگر کوئی بینک اکاؤنٹ ہولڈرز کو پیشگی اطلاع دیے بغیر ایس ایم ایس سروس کے نام پر رقوم کاٹتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ حالیہ عرصے میں ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے ایس ایم ایس ریٹس میں اضافے کے باعث بینکوں کے اخراجات بڑھے ہیں تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ صارفین پر بلاجواز بوجھ ڈالا جائے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بھی اس معاملے پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ اکاؤنٹ ہولڈرز سے ایس ایم ایس سروس کے نام پر کٹوتی غیر قانونی ہے، خصوصاً جب صارفین کو اس بارے میں واضح آگاہی نہ دی گئی ہو۔
کمیٹی اراکین کا کہنا تھا کہ بینک خود بھی ایس ایم ایس سروس کے ذریعے وقت اور انتظامی اخراجات بچاتے ہیں، اس کے باوجود صارفین سے اضافی چارجز وصول کرنا ناقابل قبول ہے۔