ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ایران کا بھی سخت ردعمل آگیا

ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ایران کا بھی سخت ردعمل آگیا

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر دنیا بھر میں متعین ایرانی سفارتی مشنز نے انتہائی سخت اور واضح ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

گھانا، کینیا اور بھارت میں ایرانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں امریکا کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ طاقت یا دھمکیوں کے ذریعے ایران کو اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔

ایرانی سفارتی مشنز کا سخت ردعمل

امریکی صدر کے بیانات کا جواب دینے کے لیے ایران نے روایتی طریقوں کے بجائے دنیا بھر میں پھیلے اپنے سفارتی نیٹ ورک کو متحرک کیا ہے، جہاں سے بیک وقت تند و تیز بیانات سامنے آئے ہیں۔

’افزودہ یورینیم گھر کی امانت ہے‘، گھانا میں ایرانی سفیر

افریقہ کے اہم ملک گھانا میں قائم ایرانی سفارت خانے نے صدر ٹرمپ کے مطالبات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ’ایران کی افزودہ یورینیم  ہمارے اپنے گھر میں ہے اور یہ ہمیشہ گھر میں ہی رہے گی۔ اسے کسی بیرونی طاقت کے حوالے کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘۔

ماضی کے نقصانات کی یاد دہانی، کینیا میں ایرانی سفیر

کینیا میں ایرانی سفارت خانے نے صدر ٹرمپ کی حکمت عملی اور ماضی کی فوجی ناکامیوں کو نشانہ بنایا۔ سفارت خانے نے اپنے آفیشل بیان میں امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹرمپ اب تک ’نیوکلیئر ڈسٹ‘ (ایٹمی فضلے یا مواد) کے وہم میں مبتلا ہیں۔

پچھلی بار جب آپ نے ایران کے شہر اصفحان سے نیوکلیئر مواد نکالنے کی کوشش کی تھی، تو آپ کو اپنے 10 سے 12 فوجی طیارے گنوانے پڑے تھے، جن کی مالیت سیکڑوں ملین ڈالر تھی‘۔

’ٹوٹے خوابوں کا بوجھ‘

بھارتی شہر حیدرآباد میں قائم ایرانی قونصل خانے نے امریکی پابندیوں اور جنگی دھمکیوں کا تمسخر اڑاتے ہوئے پوزیشن واضح کیا کہ ’اگر ایران نے اپنی یورینیم امریکا کے حوالے ہی کرنی ہوتی، تو وہ موجودہ تنازع یا جنگ سے بہت پہلے ایسا کر چکا ہوتا۔ دوسری طرف، اگر امریکا میں اتنی طاقت ہوتی کہ وہ جنگ کے ذریعے یہ مواد حاصل کر سکتا، تو وہ اب تک یہ لے چکا ہوتا‘۔

قونصل خانے نے صدر ٹرمپ کو براہ راست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مزید کہا کہ ’اب آپ کے پاس صرف اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کو دہرانے کے سوا کچھ نہیں بچا۔ یہ وہ قیمت ہے جو امریکا کو ایک غلط فہمی کا شکار ’جنگی مجرم دوست‘ پر اندھا اعتماد کرنے کی وجہ سے چکانی پڑ رہی ہے‘۔

امریکا ایران ایٹمی تنازع

اس حالیہ لفظی جنگ کا پس منظر ایران کے ایٹمی پروگرام اور امریکا کی جانب سے لگائی جانے والی اقتصادی و فوجی پابندیوں سے جڑا ہے۔

اصفحان کا مقام

کینیا میں ایرانی سفارت خانے نے جس اصفحان شہر کا ذکر کیا ہے، وہ ایران کی ایٹمی ٹیکنالوجی کا دھڑکتا ہوا دل مانا جاتا ہے۔ اصفحان میں ایران کی بڑی نیوکلیئر فیسیلٹی موجود ہے، جہاں یورینیم کو گیس میں تبدیل کرنے کا عمل کیا جاتا ہے۔ ماضی میں اس علاقے کے آس پاس کئی بار مشکوک ڈرونز اور فضائی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جنہیں ایرانی فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

معاہدوں کی منسوخی اور تناؤ

امریکا طویل عرصے سے ایران پر یہ دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اپنی یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر روک دے یا اپنا ذخیرہ ملک سے باہر منتقل کرے۔ ایران کا مؤقف رہا ہے کہ اس کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اپنی سرزمین پر یورینیم برقرار رکھنے کا خود مختار حق رکھتا ہے۔

اس سفارتی مہم کے معنی کیا ہیں؟

ایرانی سفارتی مشنز کی طرف سے آنے والے ان بیانات کا اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو چند اہم نکات سامنے آتے ہیں ایک یہ کہ ایران نے صرف تہران سے بیان جاری کرنے کے بجائے افریقہ اور ایشیا کے مختلف ممالک میں موجود اپنے سفارت خانوں کو استعمال کیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران عالمی سطح پر پبلک ڈپلومیسی کے ذریعے امریکا کے خلاف ایک بیانیہ بنا رہا ہے۔

امریکا کے اتحادیوں پر وار

حیدرآباد قونصل خانے کے بیان میں ’جنگی مجرم دوست‘ کا اشارہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کے قریبی اتحادیوں (جیسے اسرائیل) کی طرف ہے، جن کے مشوروں پر عمل کر کے امریکا اس مشکل صورتحال میں پھنس چکا ہے۔

مالی و نفسیاتی دباؤ

امریکا کو ماضی میں ہونے والے مالی نقصانات (سیکڑوں ملین ڈالر کے طیارے) یاد دلا کر ایران یہ تاثر دے رہا ہے کہ کسی بھی نئی فوجی مہم جوئی کی قیمت امریکی معیشت اور فوج کے لیے ناقابل برداشت ہو گی۔

Related Articles