امریکی اخبار کا دعوٰی، پاکستانی قیادت میں مذاکرات کی کوششوں کو دھچکا: ایران کا اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملنے سے انکار

امریکی اخبار کا دعوٰی، پاکستانی قیادت میں مذاکرات کی کوششوں کو دھچکا: ایران کا اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملنے سے انکار

امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ کا بڑا دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے امریکی مطالبات کو ‘ناقابلِ قبول’ قرار دے دیا ہے اور ایران و امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کی زیرِ قیادت علاقائی ممالک کی سفارتی کوششوں کا حالیہ دور کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گیا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملاقات کے لیے تیار نہیں ہے۔ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی اس اہم بیٹھک میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔

اس اعلیٰ سطحی اجلاس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگ کی آگ کو سفارت کاری کے ذریعے بجھانا تھا، تاہم ایران کے سخت موقف نے ان کوششوں کو مشکل بنا دیا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ جنگ اسی صورت ختم کرے گا جب امریکہ ہرجانہ ادا کرے اور مشرقِ وسطیٰ سے اپنے فوجی اڈے مکمل طور پر ختم کرے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے تو وہ جنگ بندی پر غور کر سکتے ہیں، تاہم ایران نے ان مطالبات کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے خود جنگ بندی کی درخواست کی ہے، جسے تہران نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔

اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ دور کے اختتام کے باوجود، ترکیہ اور مصر اب بھی تعطل ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ذرائع کے مطابق: مذاکرات کے لیے اب نئے مقامات، جیسے قطر کا دارالحکومت دوحہ یا ترکیہ کا شہر استنبول، زیرِ غور ہیں۔ سفارتی سطح پر نئی تجاویز تیار کی جا رہی ہیں تاکہ دونوں فریقین کو دوبارہ میز پر لایا جا سکے۔

دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا اسلام آباد میں ملنے سے انکار پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن ترکیہ اور قطر جیسے ممالک کی شمولیت اب بھی کسی ‘بیک چینل’ کامیابی کی امید باقی رکھے ہوئے ہے۔ تاہم، جب تک امریکہ اور ایران اپنے بنیادی مطالبات میں لچک پیدا نہیں کرتے، خطے میں پائیدار امن کا خواب ادھورا رہے گا۔

مزید پڑھیں: تھوڑا وقت اور دیں، ہم آبنائے ہرمز کو آسانی سے کھلوا کر تیل لے سکتے ہیں، ٹرمپ کا نیا دعویٰ

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *