پینلٹی سے قبل اسلامی کلمات،کیا کرسٹیانو رونالڈو اسلام قبول کرنے والے ہیں، سوشل میڈیا پر نئی بحث کا آغاز

پینلٹی سے قبل اسلامی کلمات،کیا کرسٹیانو رونالڈو اسلام قبول کرنے والے ہیں، سوشل میڈیا پر نئی بحث کا آغاز

پرتگالی فٹ بال اسٹار کرسٹیانو رونالڈو نے ایک بار پھر میدان میں اپنی مہارت کا لوہا منواتے ہوئے اپنے سعودی کلب النصر کو النجمہ کے خلاف 2-5 سے شاندار فتح دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس میچ میں رونالڈو نے نہ صرف اپنی ٹیم کی جیت یقینی بنائی بلکہ 2 اہم گول اسکور کر کے اپنی برتری کو مزید مستحکم کیا۔

میچ کے دوران ایک ایسا لمحہ آیا جس نے فٹ بال کی دنیا اور سوشل میڈیا صارفین کو حیران کر دیا۔ 56 ویں منٹ میں جب رونالڈو پینلٹی لینے کے لیے فٹ بال کے سامنے کھڑے ہوئے، تو انہوں نے گول کرنے سے پہلے ‘بسم اللہ’ پڑھا۔

اس عمل کے فوراً بعد انہوں نےفٹبال کو نیٹ میں پہنچایا اور اسکور 2-3 کر دیا۔ اس کے بعد 73 ویں منٹ میں انہوں نے ایک اور شاندار گول کر کے اپنی ٹیم کی برتری 2-4 کر دی۔ رونالڈو کی اس کارکردگی اور خاص طور پر اسلامی کلمات کے استعمال نے مداحوں کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:رونالڈو مسلسل دوسرے میچ میں النصر ٹیم سے باہر کیوں؟ وجہ سامنے آگئی

اعداد و شمار کے مطابق، اس میچ میں 2 گولز کرنے کے بعد رونالڈو کے کیریئر کے مجموعی گولز کی تعداد 967 تک پہنچ گئی ہے۔ وہ اب فٹ بال کی تاریخ کے اس عظیم سنگ میل کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ہیں جہاں وہ 1000 گولز مکمل کرنے والے پہلے کھلاڑی بن سکتے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب رونالڈو نے اسلامی اصطلاحات کا استعمال کیا ہو۔ دسمبر 2025 میں جب انہیں مسلسل تیسری مرتبہ مشرقِ وسطیٰ کے بہترین فٹبالر آف دی ایئر کا اعزاز دیا گیا، تو اپنی فاتحانہ تقریر کے دوران انہوں نے 1000 گولز کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ’ان شا اللہ‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ ان کے اس رویے نے انہیں عرب دنیا اور خاص طور پر مسلمانوں میں بے حد مقبول بنا دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر رونالڈو کے مداحوں کی ایک بڑی تعداد یہ قیاس آرائیاں کر رہی ہے کہ سعودی عرب میں قیام اور وہاں کی ثقافت سے گہری وابستگی کے باعث رونالڈو جلد ہی اسلام قبول کر سکتے ہیں۔

تاہم میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ ابھی تک خود رونالڈو یا ان کے قریبی حلقوں کی جانب سے ایسی کسی بات کی تصدیق نہیں کی گئی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی واضح اشارہ ملا ہے۔

رونالڈو کی یہ مقبولیت صرف ان کے کھیل تک محدود نہیں رہی بلکہ ان کا مقامی ثقافت اور مذہب کے تئیں احترام انہیں ایک عالمی سفیر کے طور پر پیش کر رہا ہے، جس کے اثرات فٹ بال کے میدان سے باہر بھی نمایاں نظر آ رہے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *