سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاک بحریہ دشمن کی اہم تنصیبات اور بحری اثاثوں کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور اس مقصد کے لیے اسے جدید ترین پلیٹ فارمز اور مخصوص ٹیکنالوجیز سے لیس کیا جا رہا ہے۔
پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ایڈمرل نوید اشرف نے دوسرے پی این ملجم کلاس کارویٹ، ‘پی این ایس خیبر’ کی پاک بحریہ کے بیڑے میں شمولیت کی پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک مضبوط، متوازن اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس بحریہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
نیول چیف نے اپنے خطاب میں تزویراتی انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ‘معرکہ حق’ کے دوران پاک بحریہ بھارتی طیارہ بردار جہاز کو غرق کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار تھی، جس کے خوف نے بھارتی بحریہ کو اپنی محفوظ پناہ گاہوں تک محدود رہنے پر مجبور کر دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ معرکہ حق کے دوران بحری آپریشنز کی مہارت اور طرزِ عمل دشمن کے لیے یہ واضح پیغام ہے کہ پاکستان کے بحری مفادات کو چیلنج کرنے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور اور عبرت ناک جواب دیا جائے گا۔ ایڈمرل نوید اشرف کا کہنا تھا کہ اہم بحری تجارتی اور توانائی کی گزرگاہوں پر پاکستان کا محلِ وقوع تقاضا کرتا ہے کہ ہماری بحری قوت ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار رہے۔
ایڈمرل نوید اشرف نے مزید کہا کہ ‘پی این ایس خیبر’ جیسے جدید جنگی جہاز اور مستقبل میں شامل ہونے والی ‘ہنگور کلاس’ آبدوزیں پاک بحریہ کی آپریشنل استعداد اور تزویراتی رسائی کو مزید وسعت دیں گی۔
یہ جدید ٹیکنالوجیز پاک بحریہ کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ سمندر کے دور دراز حصوں میں بھی دشمن کے اثاثوں کو کامیابی سے نشانہ بنا سکے۔ تقریب کے اختتام پر نیول چیف نے پی این ایس خیبر کے عملے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک بحریہ ملکی سمندری حدود کی خودمختاری اور دفاع کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی سے نبھاتی رہے گی۔