امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے امریکی جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے ایسی جدید ’انفرا ریڈ ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی‘ کا استعمال کیا ہے جو روایتی ریڈار سسٹمز کی نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق یہ ٹیکنالوجی امریکی دفاعی نظام کے لیے ایک بھیانک خواب بن چکی ہے کیونکہ جدید ترین الیکٹرانک وار فیئر سسٹمز بھی اسے پکڑنے یا جام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، جس کے باعث کھربوں ڈالر کی امریکی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی بے اثر نظر آ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں پیش آنے والے ان واقعات نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ان بلند بانگ دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کا فضائی دفاعی نظام اور ریڈار نیٹ ورک مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران اب تک 7 جدید امریکی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کر چکا ہے جن میں ای 3، ایف 15 اور انتہائی جدید اسٹیلتھ طیارہ ایف 35 بھی شامل ہیں۔ جنوبی ایران میں ایک ایف 15 ایگل کے گرنے کے بعد امریکی افواج اپنے لاپتا پائلٹ کی تلاش میں سرگرداں ہیں، تاہم اب تک صرف ایک پائلٹ کو بچایا جا سکا ہے جبکہ دوسرا تاحال لاپتا ہے۔
دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ نے ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ تہران نے لاپتا امریکی اہلکار یا پائلٹ کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے 66100 ڈالر کے بھاری انعام کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کو ماہرین کی جانب سے نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی اس نئی ٹیکنالوجی کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ عالمی سطح پر جنگی توازن کو مکمل طور پر تبدیل کر دے گی، کیونکہ اب تک کی تمام فضائی برتری صرف اسٹیلتھ اور ریڈار سے بچنے کی ٹیکنالوجی پر قائم تھی جو اب ایرانی دفاع کے سامنے ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اپریل 2026 کے یہ واقعات مستقبل کی فضائی جنگوں کے لیے ایک نیا رخ متعین کر سکتے ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچی جب آبنائے ہرمز کی بندش اور ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد تہران نے اپنے ’ایکٹیو ڈیفنس‘ کا آغاز کیا۔
ماضی میں بھی ایران نے امریکی ڈرونز کو الیکٹرانک طریقے سے ہائی جیک کر کے اپنی تکنیکی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا، تاہم ایف 35 جیسے طیارے کا گرایا جانا عالمی دفاعی ماہرین کے لیے حیرت کا باعث ہے، کیونکہ یہ طیارہ اپنی ’ناقابلِ تسخیر‘ شناخت کے لیے مشہور ہے۔