مشرقِ وسطٰی میں جاری سنگین جنگی صورتحال اور امریکا اسرائیل ایران تنازع کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ خطے میں امن کا سب سے بڑا داعی ہے، جہاں دنیا بھر میں پاکستان کے بطور ‘ثالث’ سامنے آنے کو سراہا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ بھارتی جریدے ’فرسٹ پوسٹ‘ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے مشکل ترین حالات کے باوجود ایران کو بحران سے نکالنے کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کے عزم کا عملی ثبوت دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب جیسے اہم اسلامی ممالک نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطے بحال کروانے میں پاکستان کے قائدانہ کردار کی تعریف کی ہے۔
چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کے حالیہ اجلاس میں پاکستان نے غیر معمولی سفارتی کامیابی حاصل کی، جس سے ایران بھی مکمل طور پر مطمئن نظر آتا ہے۔ اس اعتماد کا سب سے بڑا مظہر ایران کا وہ فیصلہ ہے جس کے تحت اس نے پاکستانی بحری جہازوں کو تزویراتی اہمیت کی حامل ‘آبنائے ہرمز’ سے گزرنے کی خصوصی اجازت دے دی ہے، جبکہ دیگر ممالک کے لیے یہ راستہ تاحال بند یا پرخطر ہے۔
میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کا یہ مخلصانہ کردار بھارت کے اس شرانگیز رویے کے بالکل برعکس ہے جو مودی سرکار نے اختیار کر رکھا ہے۔
واضح رہے کہ مودی نے ایران پر حملے سے چند روز قبل ہی اسرائیل کا دورہ کر کے اپنے عزائم واضح کر دیے تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک مخلص بھائی (پاکستان) اور خود غرض موقع پرست ہندوتوا زدہ بھارت کے درمیان واضح فرق ہے، جسے اب ایران اور عالمی برادری بخوبی سمجھ رہی ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے تمام چیلنجز کے باوجود خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کے لیے اپنا سفارتی مشن جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے، جو 2026 میں پاکستان کے عالمی وقار میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
پاکستان تاریخی طور پر برادر اسلامی ممالک کے درمیان تنازعات ختم کرانے میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ حالیہ خلیجی بحران کے آغاز سے ہی پاکستان نے ’نیوٹرل‘ رہنے کے بجائے ’ایکٹو میڈی ایٹر‘ (فعال ثالث) کا انتخاب کیا۔
جہاں بھارت نے اپنے معاشی مفادات اور اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعلقات کو ترجیح دی، وہیں پاکستان نے علاقائی امن اور اسلامی یکجہتی کو مقدم رکھا۔ آبنائے ہرمز سے پاکستانی جہازوں کو استثنٰی ملنا اسلام آباد کی بڑی سفارتی جیت تصور کی جا رہی ہے جس سے ملکی معیشت کو بھی سہارا ملے گا۔