روس کا امریکہ کو ایران کے خلاف دھمکی آمیز رویہ ترک کرنے کا مشورہ

روس کا امریکہ کو ایران کے خلاف دھمکی آمیز رویہ ترک کرنے کا مشورہ

روس نے مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو الٹی میٹم دینا بند کرے اور خطے میں استحکام کے لیے سفارت کاری کا راستہ اپنائے۔

روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے یہ بیان وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان ہونے والی تفصیلی گفتگو کے بعد جاری کیا گیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے سیاسی حل کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے گریز پر اتفاق کیا۔روسی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ امریکہ کی جانب سے پاور پلانٹس اور شہری تنصیبات، بالخصوص بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں ناقابلِ قبول ہیں۔

بیان میں یاد دہانی کرائی گئی کہ بوشہر پاور پلانٹ پر روسی ماہرین خدمات انجام دے رہے ہیں، لہٰذا ایسی تنصیبات پر حملے کے تصور سے باز رہا جائے۔

روس کا موقف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب امریکہ دھمکیوں کی زبان چھوڑ کر معقول سمجھوتوں کی جانب آئے۔اسی تناظر میں اقوامِ متحدہ میں روس کے نمائندے میخائل اولیانوف نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں واضح کیا کہ ایران الٹی میٹم کے بجائے منطقی معاہدوں کو اہمیت دیتا ہے۔

روس نے امید ظاہر کی ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کامیاب ہوں گی تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔

یہ بیان ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی اہم گزرگاہوں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے حالیہ اعلانات کے ردِعمل میں سامنے آیا ہے، جسے عالمی سطح پر توازن برقرار رکھنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: منگل کو ایران میں کیا ہونے والا ہے؟ٹرمپ نے بڑا اعلان کردیا

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *