امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق حالیہ بیانات پر سخت ردِعمل کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ ذہنی طور پر غیر متوازن ہیں، کانگریس جنگ ختم کرائے۔
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران اور آبنائے ہرمز سے متعلق حالیہ دھمکی آمیز بیانات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ذہنی طور پر غیر متوازن قرار دے دیا ہے۔ ایسٹر سنڈے کے موقع پر جاری اپنے ایک بیان میں برنی سینڈرز نے کہا کہ ایران جنگ کے ایک ماہ بعد صدر کا ایسا بیان ایک خطرناک اور ذہنی طور پر غیر مستحکم فرد کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے امریکی کانگریس پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے اپنا آئینی کردار ادا کرے۔ سینیٹر برنی سینڈرز کا یہ بیان صدر ٹرمپ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایران کو “بزدل” قرار دیتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر آبنائے ہرمز تاحال بند رکھی گئی تو ایران کو “جہنم جیسی زندگی” گزارنا پڑے گی۔
ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا تھا کہ آنے والا منگل ایران میں بجلی گھروں اور پلوں کی تباہی کا دن ہوگا اور وہاں ایسا منظر دیکھا جائے گا جو پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھا ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز بھی ایران کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے شدید ردِعمل سے خبردار کیا تھا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ برنی سینڈرز نے ان دھمکیوں کو عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کا دماغی توازن درست نہیں ہے اور کانگریس کو اب خاموش نہیں رہنا چاہیے۔
اس سفارتی اور سیاسی جنگ نے امریکی ایوانوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں اپوزیشن ارکان صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: منگل کو ایران میں کیا ہونے والا ہے؟ٹرمپ نے بڑا اعلان کردیا

