ایرانی فوج نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ ہونے والے حالیہ سفارتی معاہدے اور مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے دوران ملکی مسلح افواج کی جنگی تیاری، دفاعی صلاحیت اور چوکسی کو پہلے سے بھی زیادہ اعلیٰ سطح پر برقرار رکھا جائے گا۔ ایرانی عسکری قیادت کے مطابق، سفارت کاری اپنی جگہ لیکن ملک کے دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی خبر رساں ادارے ‘فارس’ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اس بات پر شدید زور دیا ہے کہ معاہدے کے پورے عرصے کے دوران ایران اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتوں میں نہ صرف تسلسل برقرار رکھے گا بلکہ اس میں مزید اضافہ کیا جائے گا اور ملکی تیاریوں میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دی جائے گی۔
ترجمان نے دشمن ممالک بالخصوص امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر دشمن نے طے شدہ معاہدے یا مفاہمتی یادداشت کی کسی بھی شق کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی، تو ایران فوری، بھرپور اور سخت ترین عسکری انداز میں جوابی کارروائی کرے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ہم خطے کی مجموعی عسکری صورتحال کو سیکنڈوں میں معاہدے سے پہلے والی جارحانہ حالت میں واپس لے جائیں گے۔
تہران نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر سفارتی اقدامات کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنے دفاعی ڈھانچے اور عسکری تیاری کو ہر لحاظ سے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر رکھے گا۔
مشرقِ وسطیٰ میں جون 2025 کی تباہ کن جنگ کے بعد، جس میں ایران اور اسرائیل کے درمیان پہلی بار براہِ راست تصادم ہوا تھا، خطے میں شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔
اس جنگ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں ایک عارضی جنگ بندی اور سفارتی فریم ورک تیار کیا گیا تھا تاکہ خطے کو کسی بڑی عالمی جنگ سے بچایا جا سکے۔
سال 2026 کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان اس معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز تو ہو چکا ہے، لیکن ایرانی فوج کا یہ تازہ ترین بیان ظاہر کرتا ہے کہ تہران واشنگٹن اور اسرائیل پر رتی برابر بھی بھروسا کرنے کو تیار نہیں ہے۔
ماضی میں بھی جب امریکا نے ‘برجام’ (ایرانی جوہری معاہدے) سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کی تھی، تو ایران کو شدید اقتصادی نقصان اٹھانا پڑا تھا، اسی لیے اس بار ایرانی فوج سفارت کاری کے متوازی اپنی عسکری طاقت کو بڑھانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔