امریکا اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر ایران میں عوامی دفاع کا ایک بے مثال منظر نامہ سامنے آیا ہے۔
ایرانی وزیرِ داخلہ نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ ملک بھر سے اب تک 1 کروڑ 20 لاکھ (12 ملین) افراد نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف ممکنہ جنگ میں حصہ لینے اور ملک کی خود مختاری کا دفاع کرنے کے لیے خود کو رجسٹرڈ کرا لیا ہے۔
ایرانی وزیرِ داخلہ کے مطابق، حکومت نے محض 10 روز قبل عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ ملکی سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے ایرانی فوج اور رضاکار فورس میں شامل ہوں۔
اس اپیل پر ملک بھر سے انتہائی بھرپور اور جذباتی ردِعمل دیکھنے میں آیا اور صرف 10 دنوں کے قلیل عرصے میں 12 ملین افراد نے اپنی خدمات پیش کر دی ہیں، جبکہ رجسٹریشن کا یہ سلسلہ تاحال تیزی سے جاری ہے۔
ایرانی میڈیا نے اس حوالے سے ایک خصوصی ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں صوبہ سیستان و بلوچستان سمیت دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کو جوش و جذبے کے ساتھ دفاعِ وطن کے لیے تیار دکھایا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں رضاکاروں کی رجسٹریشن ناصرف ایران کے اندرونی اتحاد کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ کسی بھی عسکری مہم جوئی کی صورت میں انہیں ناصرف باقاعدہ فوج بلکہ ایک کروڑ سے زائد جنونی رضاکاروں کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔
اپریل 2026 کے ان نازک حالات میں، جہاں ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں، وہیں ایران کی یہ ‘عوامی متحرک سازی’ خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔
ایران میں ‘بسیج’ (رضاکار فورس) کی روایت انقلابِ ایران کے بعد سے موجود ہے، جس نے عراق ایران جنگ کے دوران بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
حالیہ برسوں میں امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے اندرونی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں نے ایرانی عوام میں قوم پرستی کے جذبات کو مہمیز دی ہے۔
واضح رہے کہ 12 ملین رضاکاروں کا ڈیٹا بیس تیار کرنا تہران کی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ دشمن کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ ایران پر حملہ ‘عوامی جنگ’کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔