اگر آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب بھی بند ہو جائے تو عالمی تجارت پر کیا اثرات پڑسکتے ہیں؟

اگر آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب بھی بند ہو جائے تو عالمی تجارت پر کیا اثرات پڑسکتے ہیں؟

 آبنائے ہرمز غیر فعال اور اس کے ساتھ ساتھ  اہم سمندری راستہ باب المندب بھی بند ہو جائے، تو عالمی توانائی کی ترسیل کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ متاثر ہو سکتا ہے اور ایشیا سے یورپ جانے والی برآمدات کا بھی بڑا حصہ رکاوٹ کا شکار ہو جائے گا۔

عرب میڈیا رپورٹ کیمطابق باب المندب جو بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن سے ملاتا ہے، عالمی تیل کی تجارت میں ایک نہایت اہم راستہ سمجھا جاتا ہے،  اس کی بندش عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور برآمدی سامان کی ترسیل میں شدید رکاوٹ پیدا کر سکتی ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے تنبیہ کی ہے کہ ایران کے اتحادی باب المندب کی بحری گزرگاہ کو بھی اسی طرح بند کر سکتے ہیں جس طرح تہران نے مؤثر طور پر آبنائے ہرمز کو محدود کیا تھا۔

ایران کے سابق وزیرِ خارجہ علی اکبر ولایتی نے بھی ایکس پر خبردار کیا کہ مزاحمتی محاذ کی متحدہ قیادت باب المندب کو بھی ہرمز کی طرح دیکھتی ہے، اگر وائٹ ہاؤس نے اپنی احمقانہ غلطیاں دہرائیں، تو اسے جلد ہی احساس ہو جائے گا کہ عالمی توانائی اور تجارت کی روانی کو ایک ہی اقدام سے متاثر کیا جا سکتا ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہ کھولے تو وہ رواں ہفتے سے ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز اُن ممالک کے لیے کھلی ہے جو محفوظ گزرگاہ پر بات چیت کریں، تاہم امریکا اور اسرائیل اس میں شامل نہیں۔

باب المندب کہاں واقع ہے؟

یہ آبنائے یمن کے شمال مشرق اور افریقی ممالک جبوتی اور اریٹیریا کے جنوب مغرب کے درمیان واقع ہے، یہ  بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن سے ملاتی ہے، جو آگے چل کر بحرِ ہند میں شامل ہو جاتی ہے، اس کی چوڑائی کم ترین مقام پر صرف 29 کلومیٹر ہے، جس کے باعث بحری آمدورفت محدود راستوں تک رہتی ہے، اس علاقے پر ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ کا مؤثر کنٹرول سمجھا جاتا ہے۔

توانائی کی تجارت میں باب المندب کتنا اہم ؟

باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، اس کے ذریعے سعودی عرب اپنا تیل ایشیائی منڈیوں تک پہنچاتا ہے، جبکہ دیگر خلیجی ممالک بھی اسی راستے سے سویز کینال یا مصر کے سمندری پائپ لائن سسٹم کے ذریعے یورپ کو تیل اور گیس برآمد کرتے ہیں۔

2024ء میں تقریباً 4.1 ارب بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات اس راستے سے گزریں، جو عالمی مجموعے کا تقریباً 5 فیصد بنتا ہے، اگر باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں بند ہو جائیں تو دنیا کی تقریباً 25 فیصد تیل و گیس کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی ، پاسداران انقلاب نے خبردار کردیا

یہ صرف تیل تک محدود نہیں دنیا کی تقریباً 10 فیصد تجارت بھی اسی راستے سے گزرتی ہے، جس میں چین، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک سے یورپ جانے والا سامان شامل ہے۔

باب المندب کی ممکنہ بندش کیسے ہو سکتی ہے؟

یمن میں سرگرم حوثی گروہ ماضی میں یہ صلاحیت ظاہر کر چکا ہے کہ وہ اہم سمندری راستوں کو مؤثر طریقے سے محدود کر سکتے ہیں ، غزہ میں اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے دوران، انہوں نے اسرائیل اور امریکہ سے متعلق جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بحری انشورنس کمپنیوں نے اپنی کوریج کم کر دی اور بحری ٹریفک میں بھی نمایاں کمی آئی۔

حالیہ دنوں میں حوثیوں نے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملےکیے ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی تنازع میں فعال کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سابق امریکی سفارت کارنبیل خوری کے مطابق  اگر حوثی مکمل طور پر جنگ میں شامل ہونا چاہیں تو باب المندب کی بندش ان کا سب سے مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے، چند جہازوں کو نشانہ بنانے سے پورے بحیرۂ احمر میں تجارتی سرگرمیاں رک سکتی ہیں، جو عالمی تجارت کے لیے سنگین خطرے کی علامت ہے۔

عالمی تجارت پر ممکنہ اثرات

مشرقِ وسطیٰ کی ماہر اور کیمبرج یونیورسٹی، گرٹن کالج کی صدر ایلزبتھ کینڈل کا کہنا ہے کہ اگر باب المندب بند ہو جائے تو یہ بدترین منظر نامہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں متاثر ہوتے ہیں، تو یورپ کی جانب جانے والی تجارت شدید متاثر یا مکمل طور پر مفلوج ہو سکتی ہے۔

تاہم کینڈل نے یہ بھی کہا کہ حوثی گروہ ممکنہ طور پر ایسا قدم اٹھانے سے گریز کریں گے، کیونکہ اس سے سعودی عرب یا دیگر طاقتور ممالک کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آنے کا خطرہ موجود ہے۔ اس کے باوجود، حوثیوں کی موجودہ سرگرمیاں اور تاریخی مثالیں عالمی تجارتی راستوں کی حساسیت اور خطرات کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر باب المندب بھی بند ہو گیا تو اس کے اثرات صرف جاری تنازع تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی کے بحران کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں، جس کے اثرات دنیا بھر میں صنعت، گھریلو صارفین اور ایندھن کی قیمتوں پر پڑیں گے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *