بارش نے حکومتی دعوؤں کی قلعی کھول دی، انتظامیہ غائب، شہری پریشان پشاور کی اہم شاہراہیں ڈوب گئیں، ٹریفک نظام مفلوج

بارش نے حکومتی دعوؤں کی قلعی کھول دی، انتظامیہ غائب، شہری پریشان پشاور کی اہم شاہراہیں ڈوب گئیں، ٹریفک نظام مفلوج

خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں حالیہ شدید بارشوں کے بعد صورتحال انتہائی ابتر ہو گئی ہے، جہاں ورسک روڈ پر واقع بڈھنی نالے میں طغیانی کے باعث سیلابی ریلہ قریبی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور گنجان آباد علاقوں میں داخل ہو گیا ہے۔

منگل کو بڈھنی نالے کے بپھرے ہوئے پانی نے ناصرف ورسک روڈ کی بستیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ پشاور کے پوش ترین علاقوں، بشمول حیات آباد فیز 2 اور فیز 3 کی سڑکیں بھی مکمل طور پر پانی میں ڈوب چکی ہیں، جہاں سیلابی پانی سڑکوں پر نہروں کی طرح بہہ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا، کشمیر، گلگت میں اموات 400 سے متجاوز، مزید بارشیں متوقع

متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے انتظامیہ کی عدم موجودگی اور حکومتی ناکامی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ورسک روڈ کے ایک رہائشی کا کہنا تھا کہ ’ہمارے علاقے میں سیلاب آئے کئی گھنٹے گزر چکے ہیں لیکن تاحال ضلعی انتظامیہ یا ریسکیو کا کوئی اہلکار امداد کے لیے نہیں پہنچا، گھروں میں پانی داخل ہونے سے قیمتی سامان تباہ ہو چکا ہے‘۔

حیات آباد کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں ہے، جہاں جدید ترین انفراسٹرکچر کے دعوؤں کے باوجود سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں اور گاڑیوں کی آمد و رفت معطل ہو کر رہ گئی ہے۔

واضح رہے کہ ہر سال بڈھنی نالے میں طغیانی کے باوجود نالے کی صفائی اور حفاظتی بندوں کی مضبوطی کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے، جس کا خمیازہ آج شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

پشاور کے مختلف علاقوں بشمول یونیورسٹی روڈ، جی ٹی روڈ اور اندرونِ شہر کی کئی سڑکوں پر بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ہیں جس نے حکومتی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ 7 اپریل 2026 کی اس ہنگامی صورتحال نے پشاور کے نکاسِ آب کے نظام پر بڑے سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

ادھر پشاور کے علاقے متھرا اور محلہ گاؤں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، جس کے باعث مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مزید پڑھیں:ملک بھر میں شدید بارشیں اور برف باری سے موسم سرد، سندھ میں بارش کے دہائیوں پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے

متاثرہ علاقوں کے رہائشی اپنی مدد آپ کے تحت پانی نکالنے اور نقصان کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اطلاع دینے کے باوجود تاحال ضلعی انتظامیہ یا امدادی ٹیمیں موقع پر نہیں پہنچ سکیں، جس پر انہوں نے شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب صوبے میں حکومتی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہریوں نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 14 برسوں میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی دوروں تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔

ادھر لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور میں بھی بارش کے بعد کی صورتحال ابتر بتائی جا رہی ہے، جہاں پانی جمع ہونے کے باعث مریضوں اور عملے کو مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرین نے حکومت سے فوری امدادی اقدامات، نکاسی آب کے بہتر انتظامات اور مستقل بنیادوں پر شہری انفراسٹرکچر کی بہتری کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حالات سے بچا جا سکے۔

واضح رہے کہ پشاور کا بڈھنی نالہ تاریخی طور پر مون سون اور غیر موسمی بارشوں کے دوران سیلابی خطرے کا باعث رہا ہے۔ ماضی میں بھی ورسک روڈ اور ملحقہ علاقوں میں اس نالے کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی ہو چکی ہے۔

حیات آباد، جو کہ پشاور کا سب سے منظم علاقہ سمجھا جاتا ہے، وہاں نکاسِ آب کا مسئلہ حالیہ برسوں میں تعمیراتی کاموں اور نالوں کی بندش کی وجہ سے سنگین ہوا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق، شہر کی بے ہنگم توسیع اور ندی نالوں پر تجاوزات نے پشاور کو ‘اربن فلڈنگ’ کے شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *