خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں حالیہ شدید بارشوں کے بعد صورتحال انتہائی ابتر ہو گئی ہے، جہاں ورسک روڈ پر واقع بڈھنی نالے میں طغیانی کے باعث سیلابی ریلہ قریبی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور گنجان آباد علاقوں میں داخل ہو گیا ہے۔
منگل کو بڈھنی نالے کے بپھرے ہوئے پانی نے ناصرف ورسک روڈ کی بستیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ پشاور کے پوش ترین علاقوں، بشمول حیات آباد فیز 2 اور فیز 3 کی سڑکیں بھی مکمل طور پر پانی میں ڈوب چکی ہیں، جہاں سیلابی پانی سڑکوں پر نہروں کی طرح بہہ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا، کشمیر، گلگت میں اموات 400 سے متجاوز، مزید بارشیں متوقع
متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے انتظامیہ کی عدم موجودگی اور حکومتی ناکامی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ورسک روڈ کے ایک رہائشی کا کہنا تھا کہ ’ہمارے علاقے میں سیلاب آئے کئی گھنٹے گزر چکے ہیں لیکن تاحال ضلعی انتظامیہ یا ریسکیو کا کوئی اہلکار امداد کے لیے نہیں پہنچا، گھروں میں پانی داخل ہونے سے قیمتی سامان تباہ ہو چکا ہے‘۔
🚨🚨خیبر پختنخوا حکومت کے حکمران اپنی عوام کو بے یارومددگار چھوڑ گئے۔ عوام ڈوب رہے اور حکمران اڈیالہ کے باہر مصروف۔۔۔ pic.twitter.com/bwqt7h0vuT
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) April 7, 2026
حیات آباد کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں ہے، جہاں جدید ترین انفراسٹرکچر کے دعوؤں کے باوجود سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں اور گاڑیوں کی آمد و رفت معطل ہو کر رہ گئی ہے۔
🚨🚨پشاور، حیات آباد فیز 2 اور فیز 3 کی سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں۔ سیلاب کا پانی سڑک پر بہہ رہاہے pic.twitter.com/SNnCztTdxd
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) April 7, 2026
واضح رہے کہ ہر سال بڈھنی نالے میں طغیانی کے باوجود نالے کی صفائی اور حفاظتی بندوں کی مضبوطی کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے، جس کا خمیازہ آج شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
🚨خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی گورنمنٹ کی 14 سالہ کارکردگی اور بڑے بڑے دعوے، لیڈی ریڈینگ ہسپتال پشاور میں بارش کے بعد کے حالات۔۔ pic.twitter.com/nQ2QGNC3do
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) April 7, 2026
پشاور کے مختلف علاقوں بشمول یونیورسٹی روڈ، جی ٹی روڈ اور اندرونِ شہر کی کئی سڑکوں پر بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ہیں جس نے حکومتی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ 7 اپریل 2026 کی اس ہنگامی صورتحال نے پشاور کے نکاسِ آب کے نظام پر بڑے سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر پشاور کے علاقے متھرا اور محلہ گاؤں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، جس کے باعث مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مزید پڑھیں:ملک بھر میں شدید بارشیں اور برف باری سے موسم سرد، سندھ میں بارش کے دہائیوں پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے
متاثرہ علاقوں کے رہائشی اپنی مدد آپ کے تحت پانی نکالنے اور نقصان کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اطلاع دینے کے باوجود تاحال ضلعی انتظامیہ یا امدادی ٹیمیں موقع پر نہیں پہنچ سکیں، جس پر انہوں نے شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
خیبرپختونخوا پی ٹی آئی حکومت کی 14 سالہ کارکردگی میں عوام کے لیے کچھ نہ کیا گیا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی دوروں میں مصروف، پشاور کے شہری سیلابوں سے پریشان۔۔ pic.twitter.com/b3ZbIR8L1c
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) April 7, 2026

