لبنان کے عوام پر ایک بڑی مصیبت ٹلتی ہوئی نظر آ رہی ہے، جہاں اسرائیل کی جانب سے حملوں کے بجائے اب مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
جوزف عون نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔ موجودہ کشیدہ صورتحال کا واحد حل فوری جنگ بندی ہے، جس پر اسرائیل کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے کشیدگی کا خاتمہ ناگزیر ہے اور جنگ بندی دونوں ممالک کے درمیان مزید تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
دوسری جانب بنیامین نیتن یاہو نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اپنی کابینہ کو لبنان کے ساتھ فوری براہِ راست مذاکرات شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کی جانب سے بار بار کی گئی اپیل کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا، اور مذاکرات کا محور ’حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا‘ اور اسرائیل کے ساتھ امن پر مبنی تعلقات کا قیام ہوگا۔
ادھر حاقان فیدان نے نیوز کانفرنس میں امید ظاہر کی کہ لبنان میں مستقل جنگ بندی پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیتن یاہو کو لبنان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس عمل میں لبنان کو مکمل طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔
پیش رفت نہ صرف لبنان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جہاں طویل کشیدگی کے بعد امن کی ایک نئی امید جنم لے رہی ہے۔